03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گاؤں والوں نےامام سےکہاکہ تین مہینےکی چھٹی ہوگی، توان تین مہینوں کی تنخواہ کاکیاحکم ہے؟
85365اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال: میں ایک گاؤں میں 9مہینے امامت کے فرائض انجام دیتا ہوں اور تین مہینے گاؤں کی نوعیت اور کام کاج کی وجہ سے گاؤں والے مختلف جگہوں میں ٹھکانہ کر لیتے ہیں اور مجھے ان تین مہینوں کی چھٹی دیتے ہیں تاہم، میں دو تین وقت کی نماز اپنی خوشی سے پڑھاتا ہوں تو کیا مجھے ان تین مہینوں کی پوری تنخواہ لیناجائز ہے یا نہیں ؟

کیا گاؤں والے ان تین مہینوں  کی پوری تنخواہ دینےکے پابند ہیں  ؟ تفصیلاًجواب دیں۔

تنقیح:1۔معاہدہ 12 مہینےکاہواہے۔

انہوں نےتنخواہ پہلے 9 ہزاررکھی  تھی اب 12 ہزار مقررکی  ہے اورکہا کہ ہم تنخواہ بڑھا رہے ہیں،لیکن سالانہ تین مہینے کی جو  چھٹی آپ کو دیں گے، اس میں ہم تنخواہ نہیں دیں گے، ہم نے آپ کی تنخواہ میں اضافہ کردیاہے۔

اصل مسئلہ یہ ہےکہ  گاؤں میں بہت زیادہ  علماء کرام نہیں ہیں،اگرمستقل تین مہینےمسجدمیں عالم دین نہیں ہوگا،توگاوں والوں کی دینی اصلاح ،نمازوں کی پابندی،تبلیغ وغیرہ کاسلسلہ جاری نہیں رہ سکےگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں گاؤں والوں نےامام صاحب سےسالانہ معاہدہ کیاتھااورگاؤں والےاپنی رضامندی سےتین  مہینہ کی چھٹی دےرہےہیں  تواس کاان کواختیارہے۔

جہاں تک تنخواہ کی بات ہےتوتنقیح کےمطابق شروع میں ماہانہ 9000 طےہواتھا،تواس حساب سےسالانہ جو تنخواہ کی رقم بنتی ہے(9000x12=108000)108000،گاوں والوں نےاسی رقم(108000) کو 9 مہینوں میں تقسیم کرکےماہانہ 12000تنخواہ مقررکردی ہے(12000x9=108000) اس طرح کامعاہدہ  شرعا درست ہے۔

معاہدہ کےوقت اگرامام کو اس ترتیب کاپتہ تھا توتین مہینوں کی تنخواہ کےمطالبہ کا حق نہیں،لیکن اگر وہ سمجھ رہاتھاکہ ہرماہ کی تنخواہ بڑھائی ہےتوپھرتین مہینوں کی تنخواہ بھی لازم ہوگی،کیونکہ اصولی طورپر چھٹیوں کی تنخواہ مسجدکمیٹی یاگاؤں والوں پر دینی لازم ہوتی ہے۔

حوالہ جات

وقال اللہ تعالی فی سورۃ  بنی اسرائیل: آیت نمبر 34 :واوفوبالعہدان العہدکان مسئولا۔

"تفسير ابن كثير " 5 /  74:وقوله [تعالى] (3) : { وأوفوا بالعهد } أي الذي تعاهدون عليه الناس والعقود التي تعاملونهم بها، فإن العهد والعقد كل منهما يسأل صاحبه عنه { إن العهد كان مسئولا } أي: عنه۔

"صحیح البخاری" 1/303:قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: المسلمون عندشروطہم ۔

"الأشباه والنظائر – حنفي" 1 / 118:

 حكم البطالة في المدارس و مسامحة الإمام :ومنها:البطالة في المدارس كأيام الأعياد ويوم عاشوراء وشهر رمضان في درس الفقه : لم أرها صريحة في كلامهم والمسألة على وجهين : فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء وإلا : فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي  وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب من بيت المال في يوم بطالته فقال في المحيط : إنه يأخذ في يوم البطالة لأنه يستریح لليوم الثاني وقيل يأخذ انتهی۔

 وفي المنية القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح واختاره في منظومة ابن وهبان وقال : إنه الأظهر۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

08/جمادی الاولی  1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب