| 85359 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
پہلی بیوی مریم کے انتقال کے بعد شہاب الدین نے فاطمہ سے نکاح کیا ،شہاب الدین نے انتقال کے وقت اپنے پیچھے ایک بیوی فاطمہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑیں،جن میں پہلی بیوی مریم کے بطن سے دو بیٹے غلام محمد اور احمد شیخ اور ایک بیٹی شریفہ شیخ ہے، دوسری بیوی فاطمہ کے بطن سے دو بیٹے عبدالعزیز اور ضیاء الدین اور ایک بیٹی سیدہ شیخ ہے، ابھی جائیداد کی تقسیم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ان کی دوسری بیوی فاطمہ کا بھی انتقال ہو ا، انہوں نے اپنے پیچھے دو سگے بیٹے عبدالعزیز اور ضیاء الدین اوربیٹی سیدہ شیخ چھوڑی اور ساتھ ہی دو سو تیلےبیٹے غلام محمد اوراحمد شیخ اور ایک بیٹی شریفہ شیخ چھوڑی،پھر اس کے بعد سیدہ شیخ کا بھی انتقال ہوا جو غیر شادی شدہ تھی ،انہوں نے اپنے پیچھے دو سگے بھائی عبدالعزیز اور ضیاء الدین اور دو سوتیلے بھائی غلام محمد اور احمد شیخ اور ایک بہن شریفہ شیخ چھوڑی۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ شہاب الدین شیخ کی متروکہ جائیداد مذ کورہ وارثین کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شہاب الدین شیخ کی وفات کےبعدسےچونکہ اب تک میراث تقسیم نہیں کی گئی،اس لیےصورت مسئولہ میں سب سےپہلے شہاب الدین شیخ کی میراث تقسیم کی جائےگی۔
شہاب الدین شیخ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیاہو(اداکیاجائےگا،پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو تووہ اداکیاجائےگا،پھراگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ ( چار بیٹے ،ایک بیوی اوردو بیٹیوں )میں تقسیم کیاجائےگا۔
تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ شہاب الدین شیخ کےترکہ کے کل ایک سو ساٹھ (160) حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے فاطمہ کوبیس (20) حصے، غلام محمد ، احمد شیخ ،عبدالعزیز اور ضیاء الدین کو اٹھائیس ،اٹھائیس (28,28) حصے ،شریفہ اور سیدہ شیخ کو چودہ ،چودہ (14,14)حصے ملیں گے۔
شہاب الدین شیخ کی میراث کی تقسیم کےبعد فاطمہ (فوت شدہ)کی میراث تقسیم کی جائے گی،جس میں وفات کے وقت اس کی ملکیت میں موجود اموال کے علاوہ اس کو اپنےشوہر شہاب الدین شیخ سےملنےوالا عددی حصہ (20) بھی شامل ہو گا ۔ اس سارے ترکہ کو ان کی وفات کےوقت موجود ورثہ (دو بیٹوں عبدالعزیز اور ضیاءالدین اور ایک بیٹی سیدہ شیخ)میں تقسیم کیاجائےگا، یعنی بیٹوں میں سے ہر ایک کو آٹھ ،آٹھ حصے اور بیٹی کو چار حصہ ملیں گے۔ سوتیلے بیٹوں اور بیٹی کو کچھ نہیں ملے گا۔
فاطمہ کی میراث کی تقسیم کےبعد سیدہ شیخ (فوت شدہ)کی میراث تقسیم کی جائے گی،جس میں سیدہ شیخ کو اپنےوالد شہاب الدین شیخ اور اپنی والدہ فاطمہ سےملنےوالا عددی حصہ (4+14=18)کوان کی وفات کےوقت موجود ورثہ (دو بھائیوں عبدالعزیز اور ضیاءالدین )میں تقسیم کیاجائےگا، یعنی ہر ایک بھائی کو نو ،نو حصے ملیں گے۔ سگے بھائی (ماں باپ شریک)کے ہوتے ہوئے سوتیلے بھائی(باپ شریک ) اورسوتیلی بہن(باپ شریک)کو کچھ نہیں ملےگا۔
فیصدی اعتبار سےعبدالعزیز اور ضیاءالدین کاحصہ28.125%،28.125%،غلام محمد اور احمد شیخ کاحصہ17.5%17.5%اورشریفہ شیخ کاحصہ 8.75% ہوگا ۔تقسیم کا نقشہ ذیل میں ملاحظہ کریں۔
|
نمبر شمار |
نام ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
عبدالعزیز |
45 |
28.125% |
|
2 |
ضیاءالدین |
45 |
28.125% |
|
3 |
غلام محمد |
28 |
17.5% |
|
4 |
احمد شیخ |
28 |
17.5% |
|
5 |
شریفہ شیخ |
14 |
8.75% |
حوالہ جات
القران الکریم (3/ 11):
يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وإن كانت واحدة فلها النصف ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد فإن لم يكن له ولد وورثه أبواه فلأمه الثلث فإن كان له إخوة فلأمه السدس من بعد وصية يوصي بها أو دين آباؤكم وأبناؤكم لا تدرون أيهم أقرب لكم نفعا فريضة من الله إن الله كان عليما حكيما (11) ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين.
السراجی فی المیراث (5،6 🙁
الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ.
عطاء الر حمٰن
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
30 /ربیع الثانی /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عطاء الرحمن بن یوسف خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


