03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دل میں اللہ کی ذات کو برا کہنے کا حکم
85772ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

اگر کوئی شخص دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کو براکہے،اللہ کی ذات کے بارے میں برا سوچے،تو کیا ایسا شخص مسلمان باقی رہتا ہے؟اگر وہ شخص کہے کہ دل کے بارے میں مسئلہ کا پتہ نہیں تھا،تو کیا عذر قابل قبول ہے اور یہ جہالت میں شامل ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسے خیالات  جو غیر اختیاری طور پر دل میں آئیں یا خود سے توجہ ہو لیکن فوراً ناگواری کے ساتھ استغفار کرلیا جائے تو اس قسم کے خیالات کی  وجہ سے بالکل پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ صحا بہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے بھی جب اس قسم کے خیالات کا  اظہار نبی کریمﷺ کے سامنے کیا تونبی کریم ﷺ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو پکے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔لہذا ایسے خیالات کی وجہ سے  اپنے ایمان کے بارے میں بالکل شک میں مبتلاء نہیں ہونا چاہیے۔

حوالہ جات

أخرج الإمام مسلم في "صحيحه" (1/83)(الحديث رقم:209) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه  قال:جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: وقد وجدتموه؟ قالوا: نعم، قال: ذاك صريح الإيمان .

قوله صلى الله عليه وسلم ذلك صريح الإيمان ومحض الإيمان معناه :استعظامكم الكلام به هو صريح الإيمان فإن استعظام هذا وشدة الخوف منه ومن النطق به فضلا عن اعتقاده إنما يكون لمن استكمل الإيمان استكمالا محققا وانتفت عنه الريبة والشكوك. (شرح النووي على مسلم:2/ 154)من خطر بقلبه ما يوجب الكفر إن تكلم به، وهو كاره لذلك، فذلك محض الإيمان، وإذا عزم على الكفر، ولو بعد مائة سنة يكفر في الحال كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية:2/ 283)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

5/جمادی الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب