03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متعدد میتوں کی میراث کی تقسیم کی ایک صورت
85431میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میرے دادا کا انتقال ہوگیا جس کے دو بیویاں تھیں،جن میں سے پہلی بیوی کی کوئی اولاد نہیں تھی، جبکہ دوسری   بیوی کے دو بیٹے اور اور ایک بیٹی تھی۔ دادا کے بعد اس بیٹی (جو کہ میری پھوپھی تھی)کا بھی انتقال ہوگیا جس نے ورثہ میں والدہ، بیٹا، بیٹی اور شوہر چھوڑا۔اس بیٹی (میری پھوپھی )کے ا نتقال کے کچھ عرصے بعد اس کی والدہ (میری دادی)کا بھی انتقال ہوگیا اور ورثہ میں دو بیٹے چھوڑے ،اس کے بعد  دوسری دادی(جس کی اولاد نہیں تھی) کا بھی انتقال ہوگیا ۔برائےکرم دادا کے میراث کی تقسیم کی ترتیب بتادیجئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو مال و اسباب، نقدی، جائیداد وغیرہ  چھوڑتاہے،  اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیزوتکفین کی متوسط اخراجات نکالے جاتے ہیں،اس کے بعد مرحوم کے ذمہ اگر کسی کا قرض ہو تو وہ اداکیاجاتاہے،پھر اگر اس نے کسی غیر وارث کے حق میں جائز وصیت کی ہوتواسے اس کے ترکہ کے ایک تہائی سے اداکیا جاتا ہے،اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے وہ ورثہ میں تقسیم ہوتا ہے۔

صورت مسؤلہ میں چونکہ ایک سے زائد افراد یکے بعد دیگرے فوت ہوئے ہیں اور ان میں سے کچھ دوسروں  کے وارث  بھی ہیں، لہذا مرحومین کےموجودہ ورثہ  کے درمیان میراث مندرجہ زیل ترتیب سے    تقسیم ہوگی:

ہربیٹے کو %39.58،داماد کو %4.375،نواسےکو %6.805،نواسی کو %3.402 ،جبکہ پہلی بیوی کو%6.25 ملے گا۔مرحوم کی پہلی بیوی کے ورثہ کی تفصیل مذکور نہیں جبکہ سوتیلے بیٹے وارث نہیں بنتے،لہذا اس کا حصہ اس کی وفات کے وقت موجود ورثہ میں تقسیم ہوگا۔  آسانی کےلیے درج ذیل نقشہ ملاحظہ ہو۔

نوٹ: ورثہ کے نام فرضی لکھے ہیں اور ساتھ مرحوم کے ساتھ رشتہ بھی لکھا ہے۔

نمبرشمار

ورثہ

کل:1440   حصے

100فیصد

1

فاطمہ(دادا کی پہلی بیوی)

90

%6.25

2

خالد(بیٹا)

570

%39.58

3

حامد(  بیٹا)

570

%39.58

4

زید(داماد)

63

%4.375

5

عمرو(نواسا)

98

%6.805

6

رقیہ(نواسی)

49

%3.402

حوالہ جات

قال اللہ تعالی: يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٞۚ  [النساء: 11] 

وقال اللہ تعالی: فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ [النساء: 12] 

قال  في الهندية: التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف. . .ثم بالدين. . .ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين. . .ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث. ( الفتاوى الهندية:6/ 447)

وقال  في الهندية: مات الرجل ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته . . . فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول، ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة. . .أما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول ،فإنه تقسم تركة الميت الأول أولا؛ ليتبين نصيب الثاني ،ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته.

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

30/ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب