03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو طلاق دینے کا اختیار صرف شوہر کے پاس ہے
84052طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرا نام عبدالقدیر ہے اور میری 2010ء میں منگنی ہوئی،اس تقریب میں مولوی صاحب نے گواہان کے سامنے نکاح بھی پڑھایا،مولوی صاحب ابھی تک حیات ہے،منگنی کو چھ سال گزرے تو ہم نے رخصتی کی بات کی تو پہلے انہوں نے بہانہ بنایا،پھر لڑکی دینے سے انکار کیا،حالانکہ لڑکی اس رشتے سے بالکل خوش تھی ،مگر ان کے خاندان کے لوگوں نے جھوٹی کہانیاں گھڑ کر لڑکی کا رشتہ خراب کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ منگنی اب ٹوٹ چکی ہے،ہم لڑکی نہیں دیں گے،میں نے کہا کہ میرا نکاح ہوا ہے،میں نےلاکھوں روپے خرچ کئے ہیں،کسی کی سازش پر میں اپنی بیوی کو کیوں چھوڑوں؟انہوں نے کہا کہ کوئی نکاح نہیں ہوا اور آئندہ ہمارے راستے میں نہ آنا۔

میں کہا شریعت کے پاس جاتے ہیں جو فیصلہ ہوگا قابل قبول ہوگا،ہم فریقین مفتی گل حسن صاحب جو کوئٹہ میں ہوتے ہیں ان کے پاس گئے،مولوی صاحب نے فریقین سے دستخط کروائے کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اسے قبول کریں گے،جس پر ہم فریقین نے دستخط کئے،فیصلہ میرے حق میں آیا،مفتی صاحب کے سامنے انہوں نے فیصلہ قبول کیا،مگر پھر عدالت میں کیس کردیا اور فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔

میں نے کہا میں طلاق نہیں دوں گا،تو انہوں نے عدالت میں کہا کہ نکاح نہیں ہوا،صرف منگنی ہوئی تھی جو اب ختم ہوگئی ہے اور ہم مفتی گل حسن کے فیصلے کو بھی نہیں مانتے جو کے فراڈی ہیں،عدالت کے بعد وہ لوگ خاتون محتسب کے پاس بھی گئے تاکہ زور و زبردستی کرکے مجھے اس رشتے سے علیحدہ کیا جائے،وہ لوگ دنیاوی حساب سے انتہائی طاقتور ہیں ،سارے وزراء، کمشنر،پولیس اور ایجنسیوں کے اعلی افسران ان کے ساتھ ہیں جو وقتا فوقتا مجھے ہر قسم کی تکلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اپنی بکواس بند کروں،کیونکہ منگنی ختم ہوچکی ہے اور کوئی نکاح نہیں ہوا۔

اس کے بعد انہوں نے مجھے اور میرے والد کو ایجنسی کے ذریعے اپنے دفتر بلایا  اور دھمکی دی کہ ہم اس لڑکی کی منگنی کسی اور سے کرنے والے ہیں،تم لوگ اس سے دور ہوجاؤ،میں نے کہا: وہ میری بیوی ہے،میں کیوں اسے چھوڑوں؟

اس کے بعدقبائلی جرگے کے ذریعے بھی ہم پر دباؤ ڈالا گیا،میرے خاندان اور کاروبار کو ختم کرنے کی دھمکیاں دیں،وہ لوگ یہ سب کرنے پر قادر بھی ہیں،پھر انہوں نے ایک قبائلی جرگے کا انعقاد کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ قدیر اپنی منگیتر کو طلاق دے گا،ورنہ اس کے ساتھ بہت برا ہوگا، انہوں نکاح کا خرچہ مجھے واپس کردیا،لیکن میں نے کہا کہ میں طلاق نہیں دوں گا۔

نہ میں نے ان کے سامنے طلاق دی،نہ میں نے طلاق کے کاغذ پر دستخط کئے،درمیان کے لوگوں نے ایک کاغذ پر دستخط کئے جس پر لکھا تھا کہ قدیر اس منگنی سے علیحدہ ہورہا ہے،اس میں طلاق کا ذکر نہیں تھا اور نہ میں نے اس پر دستخط کئے،اس کے علاوہ میں نے زبانی بھی طلاق نہیں دی،بلکہ جرگے کے سامنے بھی کہا کہ میں کسی صورت طلاق نہیں دوں گا،مجھے میری بیوی کی رخصتی دو۔

اس تفصیل کی روشنی میں آپ سے سوال ہے کہ کیا میرا نکاح باقی ہے؟ اور لڑکی اب بھی میری بیوی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے کہ اس لڑکی سے آپ کی صرف منگنی نہیں ہوئی تھی،بلکہ باقاعدہ نکاح ہوا تھا اور اب تک آپ نے اسے طلاق نہیں دی تو جب تک آپ اسے طلاق نہیں دیں گے یہ لڑکی بدستور آپ کے نکاح میں رہے گی،لہذا آپ کے طلاق دینے سے قبل اس لڑکی کا کسی اور سے رشتہ ممکن نہیں۔

نیز لڑکی والوں کو نکاح سے پہلے سوچ سمجھ کر رشتہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا،اب جبکہ نکاح ہوچکا ہے تو بغیر کسی معقول وجہ کے لڑکی والوں کا زور و زبردستی کے ذریعے آپ کو طلاق دینے پر مجبور کرنا درست نہیں،بلکہ ان پر لازم ہے کہ لڑکی کی رخصتی کردیں،لیکن اگر لڑکی والے کسی بھی طور پر بھی رخصتی پر آمادہ نہیں ہورہے تو پھر آپ کے لئے بھی اس رشتے کو بحال رکھنے پر اس قدر اصرار مناسب نہیں،کیونکہ جب رخصتی سے پہلے دونوں خاندانوں کے درمیان اس قدر کشیدگی وجود میں آچکی ہے تو اس کے بعد اس رشتے کے ذریعے نکاح کے مصالح کا حصول بہ ظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 230):

"(قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها، وبالبالغ عن الصبي ولو مراهقا، وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا فيقع طلاق العبد والسكران بسبب محظور والكافر والمريض والمكره والهازل والمخطئ كما سيأتي".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

28/ذی قعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب