03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تخارج کے بعد بہنوں کی اولاد کا اپنی ماؤں کے حصے کا مطالبہ کرنا
83867میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سلطان علی کا انتقال ہوگیا جس کے پانچ ورثا ہیں،ایک بیٹا اور چار بیٹیاں،جن میں سے ایک بیٹی کا انتقال سلطان علی کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا،جس وقت سلطان علی مرحوم کی جائیداد ان کے بیٹے کے نام منتقل ہورہی تھی اس وقت تینوں بیٹیاں کچھ رقم یعنی مبلغ پچاس ہزار روپے لے کر اپنے حصوں سے دستبردار ہوگئیں اور باقاعدہ تحصیل میں اسٹام پیپر پر انگلیاں بھی لگائیں،اس کے بعد باوجود رقم لینے اور حق میراث سے دستبردار ہونے کے ان میں سے دو بہنوں کو بعد میں تیرہ مرلے اورآٹھ مرلے بالترتیب دیئے گئے۔

اب جبکہ ان ورثا یعنی ایک بیٹے اور تین بیٹیوں میں سے بھی بیٹے اور دو بیٹیوں کا انتقال ہوگیا ہے،تو ان کے بچے اب ماموں کے بچوں سے حق میراث کا مطالبہ کررہے ہیں،کیا انہیں اس مطالبے کا حق حاصل ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل سچ اور حقیقت پر مبنی ہے کہ سلطان علی مرحوم کی جائیداد بیٹے کے نام انتقال کے وقت ہر بہن پچاس ہزار روپے لے کر اپنے حصے سے دستبردار ہوگئی تھی تو اب ان کی اولاد کو اپنی ماؤں کے حصے کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (5/ 642):

"(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر)".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

13/ذی قعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب