| 85285 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
ہمارا”اوکھائی میمن یوتھ سروسز “کے نام سے ایک ویلفیئر رجسٹرڈ ادارہ ہے، ہم اپنی برادری کے مخیر حضرات سے زکوة کی رقم جمع کرکے اپنی ہی برادری کے لوگوں پر صرف کرتے ہیں، کیا ہم زکوٰة کی یہ رقم وصول کرکےتملیک سے پہلےیا تملیک کےبعداسلامک بینک کے سیونگ اکاونٹ میں رکھ سکتے ہیں؟تا کہ برادری کےمستحقین کے لیے انویسٹمنٹ کرنے سے یہ رقم بڑھ جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو فائدہ ہو سکے۔
وضاحت:سائل نے زکوٰۃ فارم اور وکالت نامہ (جس میں ادارہ کے لیے تملیک کا ذکر بھی ہے)کی تصویر بھیجی، جس کا پرنٹ منسلک ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایک ایسا ویلفیئرادارہ جسےمستحقین کی طرف سےان کے لیےزکوٰۃ کی رقم کی وصولی کی وکالت کے ساتھ ساتھ اس رقم کو دیگر مستحقین یا خود اس ادارے کی اپنی ملکیت میں دینے کا اختیار حاصل ہو(جیسےکہ آپ کے ادارہ کے منسلکہ وکالت نامے پر اگرمستحقین اپنی خوشی سے دستخط کردیں) تواس ادارےکو زکوٰۃ کی رقم وصول ہوتے ہی معطین کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی،اور ادارہ کواس میں تصرف کا اختیار ہونے کی وجہ سے مستحقین کی فوری ضرورت سے زائد رقم کا غیر سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنابلا کراہت جائز ہوگا ۔
جبکہ تملیکِ فقراء سے پہلے ایک ویلفیئررجسٹرڈ ادارے کا زکوٰۃ دینے والوں کا ہی وکیل ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کی رقم کسی غیرسودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنااصولی طورپر جائز نہیں ہے،البتہ بینک چونکہ ایک منظم / Regulated ادارہ ہے، جو بحیثیتِ ادارہ عقد کا فریق بنتا ہے اور تمام حفاظتی تدابیر کا یقینی اہتمام کرتا ہے، غفلت اور لاپروائی یا حدود سے تجاوز کی صورت میں قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے، اس لیے اس کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقوم کے ضائع ہونے کا خدشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس میں اصل مستحقین کا فائدہ بھی ہے، لہٰذا فوری ضرورت و حاجت سے زائد مالِ زکوٰۃ غیرسودی بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنا اور انویسٹ کرنا کہ بوقتِ ضرورت اس رقم کےواپس لینےمیں دشواری بھی نہ ہو،استحساناً درست معلوم ہوتا ہے، اگرچہ مستحقین سے اس کی صریح اجازت نہ لی گئی ہو اور نہ ہی انہوں نے ادارے کو زکوٰۃ کا مالک بنایا ہو۔
لیکن واضح رہے کہ اس صورت میں زکوٰۃ کی رقم اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کےمستحق بھی وہی ادارہ
سے تعلق رکھنے والےمستحقینِ زکوۃ ہی ہوں گے،اور منتظمینِ ادارہ کا فرض ہوگا کہ وہ یہ پوری رقم ان فقراء میں تقسیم کریں یااس سے ان کی معاشی و تجارتی ضروریات کے مطابق کوئی چیز، مشین اور آلاتِ صنعت و حرفت خرید کر یا دکان وغیرہ بنا کرانہیں بطورِ ملکیت دیں ،نیز ان مستحقین سے تملیک حاصل کیے بغیر کسی اور مصرف یا ادارے کی دوسری ضروریات میں بھی یہ رقم خرچ نہ کی جائے،جبکہ انویسٹمنٹ اور سرمایہ کاری میں خدانخواستہ نقصان ہو جائے تو اگریہ اس ادارے کی تعدی وزیادتی یا غفلت و کوتاہی کی وجہ سے ہو تو وہ ادارہ اس کا ضامن ہوگا، ورنہ یہ نقصان بھی اس ادارہ سے وابستہ مستحقینِ زکوٰۃ برداشت کریں گےجن کے فائدے کے لیے یہ رقم بینک میں رکھی گئی ہو۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:2/ 269):
ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعا إلا إذا وكله الفقراء وللوكيل أن يدفع لولده الفقير و زوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت.
المعاییر الشرعیة، معیار الزکاة (910-909)::
10/2 الأصل دفع الزکاة فور وجوب أدائها، ویجوز تأخیر إخراجها – بما لا یزید لسنة – لغیبة المال، أو ربط توزیعها بجداول زمنیة، أو لمصلحة ظاهرة.
10/3 علی المؤسسات أن تفرد للزکاة صندوقا أو حسابا خاصا بها.
10/4 الأصل صرف الزکاة في مصارفها، وعند الحاجة یجوز توظیف أموال الزکاة في مشاریع استثماریة تنتهي بتملیك أصحاب الاستحقاق للزکاة، أو تکون تابعة للجهة الشرعیة المسئولة عن جمع الزکاة وتوزیعها، علی أن یکون ذلك بعد تلبیة الحاجة الماسة الفوریة للمستحقین وتوافر الضمانات الکافیة للبعد عن الخسائر.
الفتاویٰ التاتارخانیة، ط:فاروقیة (3/228):
وفیها: سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً فقال له:"هذا زکوٰة مالی فادفعها إلی فلان " فدفعها الوکیل إلی آخر،هل یضمن؟ قال:نعم، وله التعیین.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/جمادی الاولیٰ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


