03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ویلفیئر سوسائٹی بنانے کا حکم
85780جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک تعلیمی ادارہ کے بعض اساتذہ کا ارادہ ہے کہ ادارہ ہذا میں ایک ویلفیئر سو سائٹی قائم کی جائے،جس میں تمام اساتذہ کرام اور طلباء باہمی چندہ جمع کر یں اور چندہ وقف یا تبرع کی حیثیت سے جمع کروائیں گے اور بعد میں ضرورت کے وقت ، اسی چندہ سے ادارے کے اساتذہ وطلباء یا دوسرے عملہ کی بالخصوص اور ملکی سطح پرکسی ناگہانی آفت کے مو قع پر بالعموم مسلمان بھائیوں کی مالی مدد کی جائے گی ، اور اس تمام کام کی نگرانی کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی اور ادارے کے ایک استاد کو امین (وکیل) کی حیثیت سے چیئر مین مقرر کر یں گے۔جو چندہ جمع کرنے اوراس کے بعد تمام تصرفات کے امور کی نگرانی کرے گا ۔

ویلفیئر سوسائٹی کی تفصیل درج ذیل ہے:

 اغراض ومقاصد: I. ادارہ میں باہمی اتفاق و اعتماد کے جذبہ کو اجاگر کرنا II. بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینا III. ناگہانی حادثہ کی صورت میں مالی تعاون کرنا IV. خوشی وغمی کے وقت قرض حسنہ کی سہولت V. بیماری کی صورت میں علاج معالجہ کا بندوبست کرنا VI. فوتگی کے موقع پر مالی تعاون VII. مستحق طلبہ کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرنا VIII. اساتذہ یا عملہ میں سے کسی کی شادی یا اولاد کی شادی میں مالی تعاون IX. قدرتی اورناگہانی آفات کی صورت میں ملکی سطح پر ہر ممکن امداد مہیا کرنا ۔

چندہ کا طریقہ کار: i. چندہ ایک پول کی صورت میں جمع ہوگا ii. چندہ وقف/تبرع کی نیت سے دیا جائے گا۔ iii. کسی ممبر یا ادارہ کی ملکیت نہیں ہو گابلکہ ممبرز کی ملکیت سے خارج ہوگا iv. چندہ میں صدقات واجبہ شامل نہیں کیے جائیں گے اور اگر صدقہ واجبہ جمع ہوا تو اس کے شرعی مستحق پر الگ سے صرف کیا جائے گا۔ v. چندہ کسی شرط سے مشروط نہیں ہوگا vi. چندہ کسی عقدکا نتیجہ نہیں ہوگا vii. کسی بھی ممبر پر متعین چندہ نہیں ہوگا اپنی حیثیت کے مطابق جو جتنا چاہے دے سکتا ہے viii. چندہ طیب خاطر سے ہوگا کسی پر کوئی الزام وجبر نہیں ہوگا،اور جس کا دل نہیں چاہتا وہ چندہ جمع نہ کروائے۔ ix. ہر اسٹاف ممبر ہر ماہ یا جب چاہے چندہ خاموشی سے خود جمع کروائے گا ۔

شرائط و ضوابط: 1: ویلفیئر سوسائٹی کا چیئرمین امین کی حیثیت سے تصرف کرےگا۔ 2:تصرف چیئرمین اور کمیٹی کی صوابدید پر ہوگا۔ چندہ دہند گان پر بھی صرف ہو سکے گا اور اس کے علاوہ بھی۔ 3:غیر شرعی امور میں خرچ نہیں کیا جائے گا۔ کمیٹی: چار ،پانچ ممبر پر مشتمل ہو گی۔

1۔کیا اس طرح ویلفیئر سوسائٹی بنانا جائز ہے؟ 

2۔ اگر اس سوسائٹی کے اصول وضوابط یا طریقہ کار وغیرہ کہیں شرعی طور پر صحیح نہیں ہیں تو اس کی درستگی کیا ہو سکتی ہے؟

3۔اب سوال یہ ہے کہ بسا اوقات طلباء سے مالی جرمانی لیا جاتا ہے تو کیا اس جرمانہ کو اس چندہ کے ساتھ جمع کر سکتے ہیں؟

4۔  اور  کیا  اس سوسائٹی میں  چندہ وقف اور تبرع دونوں کی حیثیت سے جمع کر سکتے ہیں ؟ یا کسی ایک کی حیثیت سے جمع کر سکتے ہیں؟شرعا صحیح صورت کیا ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔شرعی شرائط اور احکام کی رعایت   کرتے ہوئے ایسا ادارہ   قائم کرنا شرعا جائز ہے۔

2۔ویلفیئر سوسائٹی  کی مقرر شدہ اصول وضوابط  اور طریقہ کار شرعی طور پر  صحیح ہے ،البتہ چندہ کا طریقہ کار میں جز (iv) میں مذکور ہے کہ چندہ میں اگر صدقہ واجبہ جمع  ہوجائے   تو اس کے شرعی مستحق پر الگ سے صرف کیا جائے گا، اس جز (iv) میں خرابی یہ ہے کہ  ویلفیئر کے لیے چندہ ایک پول کی صورت میں  جمع ہوگا ،اگر صدقہ واجبہ پول میں زکوۃ کی نیت سے جمع کرےتو یہ زکوۃ ادا  نہ ہوئی کیونکہ زکوۃکی ادائیگی کے لیے مستحق کو مال زکوۃ کا مالک بنانا   ضروری ہےاور یہ صورت یہاں نہیں پائی جاتی۔اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ سب طلبہ اور اساتذہ  ٹرسٹ کے  چیئر مین کو جو  کہ امین کی حیثیت سے کام کرتا ہے زکوۃ کی ادائیگی کے لیے اپنا وکیل بنائیں اور امین ان کی طرف  سے مستحقین   کو مال زکوۃ کا  مالک بنا کرزکوۃ کی رقم ان کو ادا   کرے۔

3۔طلبہ سے جو مالی جرمانہ لیا جاتا ہے ان کو  واپس کرنا ضروری ہے ، جرمانے کی رقم  چندہ میں جمع کرنا جائز نہیں ۔

4۔ویلفیئرسوسائٹی میں چندہ وقف اور تبرع  دونوں کی حیثیت سے  جمع کرسکتے ہیں اس میں کوئی شرعی مانع نہیں ،شرط یہ ہےکہ چندہ دہندگان  چندہ رضامندی سےجمع کرائیں ،کسی قسم کے اخلاقی دباؤ وغیرہ کی وجہ سے نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير، أو نوى عند الدفع للوكيل ثم دفع الوكيل بلا نية. (الدرالمختار : 2/268)

قال العلامة ابن نجیم  رحمه الله: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه ،لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال ،كما يتوهمه الظلمة ،إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي، وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى ،وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.(البحر الرائق : 5/44)

قال العلامة ابن عابدین رحمه الله:والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال. (رد المحتار :4/62)

محمد یونس بن امین اللہ 

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

‏‏6جمادى الأخری،‏ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب