03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ریاض سے براستہ طائف مکہ مکرمہ جانے والے کی میقات
85430حج کے احکام ومسائلمیقات کابیان

سوال

السلام علیکم !مفتی صاحب ایک شخص عمرہ کیلئے کراچی سے مکہ مکرمہ جانے والا ہے۔ عمرہ کے بعد پھر اس کا ارادہ ہے کہ دو دن کیلئے ریاض جائے، اور پھر ریاض سے ایک دن کیلئے بذریعہ موٹر کار طائف جائے۔ طائف میں قیام اور طائف شہر گھومنے کی نیت ہے۔ اور پھر طائف سے دوبارہ مکہ مکرمہ عمرہ کیلئے پہنچے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص ریاض سے طائف بغیر احرام کی حالت کے آ سکتا ہے ؟اور طائف کے قیام کے بعد مکہ مکرمہ روانگی سے قبل طائف میں احرام کی نیت کر سکتا ہے؟ یا پھر اسے ریاض سے آتے ہوئے طائف داخل ہونے سے پہلے احرام کی نیت کرنا ضروری ہوگی؟ برائے مہربانی وضاحت فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں طائف چونکہ میقات سے باہر ہے،لہذا وہ شخص ریاض سے طائف بغیر احرام  کے جاسکتا ہے۔البتہ طائف سے مکہ مکرمہ جانے کے لیے طائف کی میقاتقرن المنازل یا اس کی محاذات میں کسی مقام سے احرام باندھنا لازم ہوگا،طائف سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں ،بلکہ یہ افضل ہو گا۔

حوالہ جات

قال  في الهندية: ولا يجوز للآفاقي أن يدخل مكة بغير إحرام نوى النسك أو لا ولو دخلها فعليه حجة أو عمرة كذا في محيط السرخسي في باب دخول مكة بغير إحرام.

قال العلامة الموصلي رحمه الله :قال: (ولا يجوز للآفاقي أن يتجاوزها إلا محرما إذا أراد دخول مكة) سواء دخلها حاجا أو معتمرا أو تاجرا؛ لأن فائدة التأقيت هذا لأنه يجوز تقديم الإحرام عليها بالاتفاق. وقال عليه الصلاة والسلام: "لا يتجاوز أحد الميقات إلا محرما".(الاختيار لتعليل المختار:1/ 141)

قال ابن عابدين رحمه الله :قال في فتح القدير: وإنما كان التقديم على المواقيت أفضل ؛لأنه أكثر تعظيما وأوفر مشقة والأجر على قدر المشقة ،ولذا كانوا يستحبون الإحرام بهما من الأماكن القاصية.

محمد فیاض

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۰۶ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب