03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرنے کا حکم
85373غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

   ہمارے دادا کی زمین تھی لیکن ان کی زندگی میں ان کی جائیداد نہیں ملی تھی بلکہ کسی  نے جائیدادپر قبضہ کرلیاتھا،پھردادا نے اپنی زندگی میں جرگہ بھی کرایا لیکن ان کو جائیداد نہ مل سکی ، اب ہمارے چچاؤں نےمطالبہ کیا کہ یہ ہماری زمین ہے،اور جن کے پاس زمین ہے ،وہ بھی قائل ہیںکہ یہ زمین ہماری نہیں ہے۔ شریعت کے رو سے یہ زمین کس کی ہے، کیا ہمارا دوبارہ مطالبہ کرنا صحیح ہے؟ شریعت اورقانون پاکستان کی روشنی میںاس کا جواب عنایت فرمائیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ شریعت میں کسی کی ملکیت پر قبضہ کرنا حرام ہے اور پاکستان کے قانون میںبھی یہ جرم ہے،اور شریعت میں اس کے بارے میں بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں چنانچہ حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی کی بالشت بھرزمین بھی ازراہ ظلم لے گا ،تو قیامت کے دن ساتوںزمینوں میں سےاتنی ہی زمین  اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی ۔ اگر وہ(قابضین ) لوگ تصدیق کریں کہ یہ دعوی کرنے والے اس جائیداد کے واقعتا مالک ہیں تو ان پر لازم ہے کہ   توبہ واستغفارکریں،اورجائیداداصل مالک کے حوالہ کریں۔

حوالہ جات

أخرجہ البخاري في صحيحہ: ( 1167/3) (رقم الحدیث3023 )من  حدیث أبي سلمة بن عبد الرحمن :وكانت بينه وبين أناس خصومة في أرض، فدخل على عائشة فذكر لها ذلك، فقالت: يا أبا سلمة: اجتنب الأرض، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (من ظلم قيد شبر طوقه من سبع أرضين).   

أخرجہ مسلم في صحيحہ: .( 5/58) (رقم الحديث1610)من حدیث  سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين.

وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته...(الدرالمختار:6/ 200)

قال العلامة السرخسي رحمه الله تعالى: ولكن في الشرع تمام حكم الغصب يختص بكون المأخوذ مالا متقوما. ثم هو فعل محرم؛ لأنه عدوان وظلم، وقد تأكدت حرمته في الشرع بالكتاب والسنة.

أما الكتاب فقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] وقال تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا} [النساء: 10] وقال صلى الله عليه وسلم: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة نفس منه» وقال صلى الله عليه وسلم: «سباب المسلم فسق، وقتاله كفر، وحرمة ماله كحرمة نفسہ.( المبسوط للسرخسي: 11 / 49)

  قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى:وأما حكم الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا.

أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية،...(وأما) الذي يرجع إلى الدنيا، فأنواع: بعضها يرجع إلى حال قيام المغصوب... (أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب... أما السبب فهو أخذ مال الغير بغير إذنه لقوله عليه الصلاة والسلام: «على اليد ما أخذت حتى ترد» ، وقوله عليه الصلاة والسلام: «لا يأخذ أحدكم مال صاحبه لاعبا ولا جادا، فإذا أخذ أحدكم عصا صاحبه فليرد عليه» ولأن الأخذ على هذا الوجه معصية، والردع عن المعصية واجب.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:7/ 148)

قال العلامة التمرتاشي  رحمه الله تعالى🙁وحكمه الاثم لمن علم أنه مال الغير، ورد العين قائمة والغرم هالكة، ولغير من علم الاخيران)  (ويجب رد عين المغصوب((الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار  ص613)

آئین پاکستان :(حقوق جائیداد کا تحفظ)دفعہ نمبر 24

(1)کسی شخص کو اس کے جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جب کہ قانون  اس کی اجازت دے۔

(2)کوئی  جائیداد زبردستی حاصل نہیں کی جائے گی ،اور نہ قبضہ میں لی جائے گی بجز کسی سرکاری غرض کے لئے اور بجز  ایسے قانون کے اختیار کے ذریعے  جس میں اس کے معاوضہ کا حکم دیا گیا ہو اور یا تو معاوضہ کی رقم کا تعین کر دیا گیا ہو یا اس اصول اور طریقے کی صراحت کی گئی ہو جس کے بموجب معاوضہ  کا تعین کیا جائے گا اور اسے ادا کیا جائے گا ۔

 عبدالوحیدطاہر بن محمدطاہر 

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

7جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب