03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بالغہ لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا
85693نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے مفتیانِ کرام اس مسئلے میں کہ  دو نامحرم کافی وقت سے ایک دوسرے سے تعلق بنائے ہوئے  ہیں ۔ مرد سرحد کے اس پار ہے اور لڑکی سرحد کے اس پار۔ لڑکی کے گھر والے اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ وہ  اس سرحد  پار شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیں ،لیکن لڑکی تسلسل کے ساتھ اپنے والدین پر دباؤ ڈالےہوئی ہے۔ ابھی کچھ وقت پہلے پتہ چلا کہ لڑکی نے اپنا نکاح اس شخص سے  آن لائن ویڈیو کال پر  کر لیا ہے۔اسی شخص کو وکیل بنایا اور جو گواہان تھے وہ نکاح کے وقت  موجود تو تھے لیکن وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کہتے ہیں وقت پڑنے پر گواہی دے دیں گے۔ اور مہر کا تذکرہ بھی  ہے۔ کیا ایسی صورت میں نکاح ہو گیا ہے  یا ولی کی اجازت پر  موقوف ہے؟ اگر نکاح ہو گیا ہےتو کیا نکاح فسخ ہو سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے انعقاد کے لیے گواہوں اور ایجاب و قبول کا ایک ہی مجلس میں ہونا شرط ہے۔ ویڈیو کال پر ایجاب و قبول  کی صورت میں یہ شرط نہیں پائی جاتی ، اس لیے ویڈیو کال پر کیا گیا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا۔ صورتِ مسئولہ میں لڑکی نے مذکورہ شخص کو اپنے سے نکاح کا وکیل بنایا تھا اور ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہوا ہے۔ تاہم اس نکاح کے جواز کے لیے مزید دو شرائط ہیں:

  1. نکاح کے گواہان لڑکی کو جانتے  ہوں۔ اگر نہیں جانتے تو مجلس عقد میں لڑکی کے نام کے ساتھ اس کے والد اور دادا دونوں کا نام لیا گیا ہو، مثلاً: فلانہ بنت فلاں بن فلاں۔ (صرف والد کا نام کافی نہیں)۔
  2. نکاح کفوء میں ہوا ہو۔

اگر مذکورہ شرائط پائی  گئی ہیں   تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے، اب فسخ نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر ان دو میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی گئی  ہو، یعنی نکاح کے گواہان لڑکی کو نہیں جانتے اور نہ ہی  مجلس عقد میں لڑکی کے نام کے ساتھ اس کے والد اور دادا دونوں کا نام لیا گیا ہو ، یا پھر نکاح غیر کفوء میں ہوا ہےتو شرعاً یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔

کفوء کا مطلب یہ ہے کہ لڑکے کا خاندان دین، دیانت،مال ، حسب و نسب اور پیشے کے اعتبار سے لڑکی کے خاندان کے ہم پلہ ہو۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :  قوله:( اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد.(رد المحتار :3/ 14)

وقال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ: وإذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجها من نفسه، فعقد بحضرة شاهدين جاز.(الهداية :1/ 197)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : قال في البحر: وإن كانت غائبة ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها كفى ذكر اسمها إذا علموا أنه أرادها، وإن لم يعرفوها لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها. وجوز الخصاف النكاح مطلقا......قلت: في التتارخانية عن المضمرات أن الأول هو الصحيح وعليه الفتوى، وكذا قال في البحر في فصل الوكيل والفضولي أن المختار في المذهب خلاف ما قاله الخصاف، وإن كان الخصاف كبيرا. اهـ. (رد المحتار :3/ 22)

وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ : (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) .

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :  قوله :(بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده. بحر. وأما إذا لم يكن لها ولي فهو صحيح نافذ مطلقا اتفاقا.......قوله: (وهو المختار للفتوى) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط، كذا في تصحيح العلامة قاسم؛ لأنه ليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ،ولا كل قاض يعدل. (رد المحتار :3/ 57)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة، فقال:

إن الكفاءة في النكاح تكون في       ست، لها بيت بديع قد ضبط

نسب، وإسلام ،كذلك حرفة،              حرية ،وديانة، مال فقط

(رد المحتار :3/ 86)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

24/جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب