03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رب العالمین اور رحمۃ للعالمین کی تفسیر
85718قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

میں قرآنِ مجید کے لفظ "عَالَمِينَ" اور اس کے دو اہم آیات میں استعمال کے بارے میں گہری سمجھ حاصل کرنا چاہتا ہوں: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورۃ الفاتحہ، آیت 2) وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ( سورۃ الأنبیاء، آیت 107) خصوصاً، میں مندرجہ ذیل امور کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں:

  1. "عَالَمِينَ" کے دائرہ کار کو مکمل طور پر کیسے سمجھا جائے؟ قرآن کے سیاق میں "عالمین" کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ صرف انسانوں اور جنات کے لیے ہے، یا یہ تمام مخلوقات، بشمول روحانی اور ماورائی جہتوں، کو شامل کرتا ہے؟ ان دونوں آیات میں لفظ "عَالَمِينَ" کے استعمال کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
  2. نبی کریم ﷺ عالمین یعنی  انسانوں کے علاوہ کے لیے بھی رحمت کیسے ہیں ؟
  3.  اس بارے میں وضاحت فرمائیں کہ نبی کریم ﷺ کے پیغام اور شخصیت نے کس طرح "رحمت" کا کردار ادا کیا جیسا کہ ان آیات میں ذکر ہوا ہے۔
  4.  کیا آپ عملی مثالیں یا تاریخی حقائق فراہم کر سکتے ہیں جن سے یہ واضح ہو کہ نبی کریم ﷺ نے یہ رحمت کیسے ظاہر کی، جو کہ تخلیق کے ظاہر اور پوشیدہ دونوں جہانوں پر محیط ہو؟ آپ کی رہنمائی ان گہرے تصورات کو سمجھنے میں انتہائی مددگار ہوگی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. عالمین میں  اللہ کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں ، جنات،فرشتے، جاندار ،زمین آسمان ، سورج ،چاندستارے پہاڑ،کانیں،چشمے حتیٰ کہ عرش اور کرسی وغیرہ، یہ سب  شامل ہیں۔ انسانوں اور جنات میں محدود نہیں ہے۔ لیکن عالمین  کی تعداد اور ان میں موجود چیزوں کا مکمل طور پر یقینی  علم کسی انسان کو نہیں ہوسکتا ۔اللہ ہی عالمین کی تعداد اور ان میں موجود مخلوقات کو جانتے ہیں۔
  2. نبی  کریم ﷺ انسانوں کے ساتھ ساتھ  دیگر مخلوقات  ،جنات ،نباتات ،جمادات ،سب کے لیے بھی رحمت ہیں۔

عالمین میں جتنی چیزیں ہیںوہ تماماللہ کے ذکر اور عبادت سے قائم ہےجیساکہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہاس دنیا میں جب تک کوئی اللہ اللہ کرنے والا باقی رہے گا ،اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، اور اللہ کاذکر نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات کی بدولت ہی قائم ہے ،اس سے بھی آپ ﷺ کا عالمین کے رحمت ہونا معلوم ہوتا ہے۔

  1. نبی کریم ﷺ دین ودنیا میں سب کے لیے رحمت  ہیں،لیکن کچھ لوگ  اس رحمت سے مستفید ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے گناہوں اور بدبختی کی وجہ سے رحمت کے اعلیٰ درجہ سے محروم رہ جاتے ہیں،لیکن ان کو بھی اس رحمت کا فائدہ ہوتا ہے ،جیساکہ حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کافروں کے لیے دنیا میں  رحمت تھے کہ آپ کی وجہ سے دنیا میں ان پر عذاب نہیں آیا ،صورت مسخ ہونے اورزمین میں دھنسائے جانے  جیسے عذابوں سے محفوظ ہوگئے۔ اسی طرح  جب  آپﷺ کی بعثت ہوئی تو لوگ گمراہی اور جاہلیت کا شکار تھے،آپﷺ نے   لوگوں کوحق کی دعوت دی ،حلال وحرام کے احکام  واضح بیان فرمائے۔  آپ ﷺ کی تعلیمات کے ذریعے  کوئی بھی انسان حق و باطل کو پہچان کردین اسلام پر  مکمل طور پر عمل کرسکتا ہےاور یہی آپ ﷺ کے رحمت کا کردار ادا کرنے کی دلیل ہے۔
  2. بہت سے ایسے واقعات ہیں جو اس چیز کا مظہر ہیں کہ نبی کریم ﷺ انسانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مخلوقات کے لیے بھی رحمت ہیں۔ جیسا کہ   اونٹ کا اپنے مالک  کی  نبی کریم ﷺسے شکایت کرنا،منبر کی تبدیلی کے وقت لکڑی کا آپ ﷺ سے جدا ہونے کی وجہ سے رونااور آپ ﷺ کاوضو فرماتے ہوئے بلی کے لیے برتن کو جھکا دینا وغیرہ ۔ ان سب واقعات سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ  کا رحمت ہونا صرف  انسانوں تک محدود نہیں،بلکہ آپ ﷺ کی  شخصیت  دیگر مخلوقات کے لیے بھی رحمت ہے۔
حوالہ جات

ثم إن العالمين عبارة عن كل موجود سوى الله تعالى، وهي على ثلاثة أقسام: المتحيزات، والمفارقات، والصفات. أما المتحيزات فهي إما بسائط أو مركبات، أو البسائط فهي الأفلاك والكواكب والأمهات، وأما المركبات فهي المواليد الثلاثة، واعلم أنه لم يقم دليل على أنه لا جسم إلا هذه الأقسام الثلاثة، وذلك لأنه ثبت بالدليل أنه حصل خارج العالم خلاء لا نهاية له، وثبت بالدليل أنه تعالى قادر على جميع الممكنات، فهو تعالى قادر على أن يخلق ألف ألف عالم خارج العالم، بحيث يكون كل واحد من تلك العوالم أعظم وأجسم من هذا العالم، ويحصل في كل واحد منها مثل ما حصل في هذا العالم من العرش والكرسي والسموات والأرضين والشمس والقمر..... بل الإنسان لو ترك الكل وأراد أن يحيط علمه بعجائب المعادن المتولدة في أرحام الجبال من الفلزات والأحجار الصافية وأنواع الكباريت والزرانيخ والأملاح، وأن يعرف عجائب أحوال النبات مع ما فيها من الأزهار والأنوار والثمار، وعجائب أقسام الحيوانات من البهائم والوحوش والطيور والحشرات- لنفد عمره في أقل القليل من هذه المطالب، ولا ينتهي إلى غورها كما قال تعالى: ولو أنما في الأرض من شجرة أقلام والبحر يمده من بعده سبعة أبحر ما نفدت كلمات الله [لقمان: 27] وهي بأسرها وأجمعها داخلة تحت قوله رب العالمين. ( التفسير الكبير:1/ 24)

 أخرج الإمام  مسلم في "صحيحه" (1/ 91)(الحديث رقم:234)من حديث أنس رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الأرض: الله الله .

وكل خير في العالم فمن آثار النبوة وكل شر وقع في العالم أو سيقع فبسبب خفاء آثار النبوة ودروسها فالعالم جسد روحه النبوة ولا قيام للجسد بدون روحه، ولهذا إذا انكسفت شمس النبوة من العالم ولم يبق في الأرض شيء من آثارها البتة انشقت سماؤه وانتشرت كواكبه وكورت شمسه وخسف قمره ونسفت جباله وزلزلت أرضه وأهلك من عليها فلا قيام للعالم إلا بآثار النبوة اهـ وإذا سلم هذا علم منه بواسطة كونه صلى الله عليه وسلم أكمل النبيين وما جاء به أجل مما جاؤوا به عليهم السلام وإن لم يكن في الأصول اختلاف وجه كونه عليه الصلاة والسلام أرسل رحمة للعالمين أيضا لكن لا يخلو ذلك عن بحث.(روح المعاني:9/100)

’’والذی اختارہ أنہ ﷺ إنما بعث رحمۃ لکل فرد فرد من العالمین ملائکتہم وإنسہم وجنہم ولافرق بین المؤمن والکافر من الإنس والجن في ذلك.(روح المعانی9/156)

أنه عليه السلام كان رحمة في الدين وفي الدنيا، أما في الدين فلأنه عليه السلام بعث والناس في جاهلية وضلالة، وأهل الكتابين كانوا في حيرة من أمر دينهم لطول مكثهم وانقطاع تواترهم ووقوع الاختلاف في كتبهم فبعث الله تعالى محمدا صلى الله عليه وسلم حين لم يكن لطالب الحق سبيل إلى الفوز والثواب، فدعاهم إلى الحق وبين لهم سبيل الثواب، وشرع لهم الأحكام وميز الحلال من الحرام. ( التفسير الكبير:22/ 193)

قوله تعالى: (وما أرسلناك ‌إلا ‌رحمة ‌للعالمين) قال سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان

محمد صلى الله عليه وسلم رحمة لجميع الناس فمن آمن به وصدق به سعد، ومن لم يؤمن به سلم مما

لحق الأمم من الخسف والغرق. (تفسير القرطبي :11/ 350)

أخرج الإمام البخاري في "صحيحه" (2/ 738)(الحديث رقم:89) من حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنهما:أن امرأة من الأنصار، قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، ألا أجعل لك شيئا تقعد عليه، فإن لي غلاما نجارا. قال: (إن شئت). قال: فعملت له المنبر، فلما كان يوم الجمعة، قعد النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر الذي صنع، فصاحت النخلة التي كان يخطب عندها، حتى كادت تنشق، فنزل النبي صلى الله عليه وسلم حتى أخذها فضمها إليه، فجعلت تئن أنين الصبي الذي يسكت، حتى استقرت، قال: (بكت على ما كانت تسمع من الذكر).

 ’’عَالَمِیْنَ‘‘، ’’عَالَم‘‘ کی جمع ہے، جس میں ساری مخلوقات انسان، جن، حیوانات، نباتات، جمادات سب ہی داخل ہیں، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ان سب کے لیے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت کرناہے، یہی وجہ ہے کہ زمین سے جب یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان چیزوں کی موت یعنی قیامت آجائے گی اور جب ذکر اللہ اور عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا، تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ان چیزوں کے لیے رحمت ہونا بھی خود بخود ظاہر ہوگیا، کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم قدم اور تعلیمات سے قائم ہے۔ (معارف القرآن، ج:۶، ص:۳۳۴)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29/جمادی الاولیٰ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب