| 85800 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
میں دو سال سے شادی شدہ ہوں۔ ہماری شادی کے شروع میں ایک اسلامی مسئلے پر بحث کرتے ہوئے میں نے اپنی بیوی سے غصے میں آ کر پوچھا، "کیا تم مسلمان نہیں ہو؟" اس نے غصے میں جواب دیا، "نہیں!" مجھے یہ سن کر دھچکا لگا اور میں نے اسے سمجھایا کہ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا میں نے اسے بتایا کہ ایسی باتیں کہنے سے انسان اسلام سے نکل سکتا ہے یا نہیں۔ چند دن بعد ایک اور بحث کے دوران میں نے وہی سوال پوچھا اور اس نے دوبارہ "نہیں!" کہا۔ اس بار میں نے واضح طور پر اس مسئلے کی وضاحت کی۔ اس نے کہا کہ اسے اس مسئلے کا علم نہیں تھا اور اس نے صرف مجھے تنگ کرنے کے لیے یہ کہا تھا۔ وہ نماز پڑھتی ہے، رمضان میں روزہ رکھتی ہے، اور دعا کرتی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایک پختہ مسلمان ہے۔ اس وقت سے جب سے میں نے اسے اس مسئلے کے بارے میں بتایا، اس نے دوبارہ ایسی باتیں نہیں کیں۔ اس کے بعد مجھے گناہ کا احساس ہونے لگا اور یہ خوف آیا کہ شاید ہم گناہ کر رہے ہیں، کیونکہ میں نے سنا تھا کہ کفر کی باتیں کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ اس گناہ کے احساس نے مجھے عبادت سے دور کر دیا، حالانکہ میرے دل میں ایمان تھا۔ پھر میں نے انٹرنیٹ پر تحقیق کی اور کچھ سلفی فتاویٰ پائے جن میں کہا گیا تھا کہ انجان سے کفر کی باتیں کرنے سے انسان اسلام سے خارج نہیں ہوتا، جس سے مجھے سکون ملا۔ لیکن پھر مجھے یہ خوف آیا کہ شاید میں "فتویٰ خرید رہا ہوں" کیونکہ پاکستان میں حنفی فقہ کی پیروی کی جاتی ہے اور میں عموماً حنفی علماء سے رہنمائی لیتا ہوں۔ میں نے مفتی طارق مسعود کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں نکاح کی تجدید کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مہر دینا، بیوی سے اجازت لینا، اور دو بالغ مرد گواہوں کا ہونا ضروری ہے جو بیوی کو جانتے ہوں۔ میں نے اس پر عمل کیا، بیوی کو پیسے دیے، اس سے اجازت لی، اور اپنے دو کزنز کو واٹس ایپ وائس نوٹس بھیجے تاکہ وہ گواہ بنیں (کیونکہ ہم یہ معاملہ خفیہ رکھنا چاہتے تھے)۔ انہوں نے جواب میں گواہی دی۔ اب میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ کیا میں نے یہ صحیح طریقے سے کیا؟ میری بیوی حمل سے ہے اور مجھے شک ہے کہ مجھے شدید او سی ڈی / وسوسہ کا مسئلہ ہے۔ میری محدود اسلامی معلومات کی وجہ سے میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ یہ وسوسہ ہے یا کوئی حقیقی فقہی مسئلہ ہے۔ براہ کرم میری مدد کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی نے شوہر کو تنگ کرنے کی نیت سے اس کے سوال(کیا تم مسلمان نہیں ہو؟) کے جواب میں’’ نہیں‘‘ کہا تو اس صورت میں بیوی پر لازم ہے کہ توبہ و استغفارکر یں ،تجدیدِ ایمان کریں اور اس کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں میاں بیوی تجدیدِ نکاح کریں۔
تجدیدنکاح کا طریقہ یہ ہے کہ خطبہ نکاح پڑھنے کے بعد دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کر لیا جائے۔ البتہ خطبہ پڑھنا سنت ہے، لہذا اگر خطبہ کے بغیر دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کرلیا جائے، تب بھی نکاح ہوجائے گا۔
اس کے کرنے کے بعد شوہراپنے نکاح اور بیوی کے ایمان کے بارے میں مطمئن رہیں ، تاہم دوبارہ اس طرح کی گفتگو سے احتناب کریں ، جب بھی کوئی وسوسہ اور شکوک آئیں تو ’’ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھیں۔
اور اگر بیوی کامقصد ’’نہیں‘‘ سے یہ ہو کہ شوہر جو تشریح کررہا ہے میں اس تشریح کو نہیں مانتی تو اس صورت میں اس پر صرف توبہ و استغفار ہے، تاہم آئندہ کے لیے اس طرح کی گفتگو کرنے میں پوری احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ ان الفاظ کاظاہری مطلب بھی ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے سخت حکم بھی لگ سکتاہے۔
حوالہ جات
قال جماعۃ من العلماء رحمہم اللہ: رجل ضرب امرأة، فقالت المرأة: لست بمسلم، فقال الرجل: هبي أني لست بمسلم ،قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى :لا يصير كافرا بذلك، وقد حكي عن بعض أصحابنا: أن رجلا لو قيل له: ألست بمسلم ،فقال: لا، يكون ذلك كفرا، كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية :2/ 277)
وفیہ ایضا:رجل كفر بلسانه طائعا، وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافرا ولا يكون عند الله مؤمنا كذا في فتاوى قاضي خان. ما كان في كونه كفرا اختلاف، فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك، كذا في المحيط .(الفتاوى الهندية:2/ 283)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: وفي الجامع الأصغر: إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا، لكنه لم يعتقد الكفر ،قال بعض أصحابنا: لا يكفر؛ لأن الكفر يتعلق بالضمير ،ولم يعقد الضمير على الكفر، وقال بعضهم: يكفر ،وهو الصحيح عندي ؛لأنه استخف بدينه.وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم، زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر ،فلا ينفعه التأويل حينئذ، وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل ؛لأن الكفر نهاية في العقوبة، فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية .والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ،ولا اعتبار باعتقاده ،كما صرح به قاضي خان في فتاويه، ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها ،لا يكفر عند الكل ،ومن تكلم بها عالما عامدا، كفر عند الكل، ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر، ففيه اختلاف ،والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة ،فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها. (البحر الرائق :5/ 134)
احسان اللہ
دار الافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
/05جمادی الآخرۃ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ بن سحرگل | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


