| 84142 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
مسئلہ یہ ہے کہ ایک خاتون خلع کا مقدمہ عدالت میں جمع کراتی ہے جس کے جواب میں شوہر تمام تر الزامات کا انکار کرتا ہے اور کورٹ سے استدعاء کرتا ہے کہ اس کا یہ مقدمہ مسترد کر دیا جائے،اس کے بعد کورٹ پری ٹرائل کے لیے وقت دیتی ہے،پری ٹرائل کے موقع پر شوہر قدرے تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں کورٹ فیصلہ سنا دیتی ہے۔
اس کے فورا بعد شوہر بھی کورٹ میں آجاتا ہے اور شوہر کا وکیل بھی پہنچ جاتا ہے،مگر کورٹ کی طرف سے جواب یہ دیا جاتا ہے کہ بوقت 10 بجے فیصلہ سنا دیا گیا ۔
میرا سوال یہ ہے کہ سب سے پہلے خاتون نے مقدمہ کیا،یعنی دعوی جمع کرایا،جس کے بعد شوہر کی جانب سے قسم اٹھا کر ان تمام الزامات کا انکار کیا گیا،جبکہ خاتون کی طرف سے کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا،یعنی دعوی اور انکار دعوی کا مرحلہ ہو چکا ہے،اس کے بعد کا مرحلہ پری ٹرائل کا مصالحتی مرحلہ ہوتا ہے جس میں کورٹ فریقین سے یہ پوچھتی ہے کہ اپ دونوں کے مابین نباہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟اگر خاتون انکار کر دے تو مقدمے کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔
میرا کہنا یہ ہے کہ اس موقع پر شوہر کا موجود نہ ہونا یہ تنسیخ نکاح کا شرعی جواز نہیں بن سکتا،کیونکہ تنسیخ نکاح کی بنیاد شوہر کی جانب سے نکول پر ہے یا خاتون کی جانب سے بینہ پیش کیے جانے پر ہے اور یہ دونوں بنیادیں نہیں پائی گئیں،آپ جناب اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں، ہماری راہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:شوہر کے بقول بیوی نے عدالت میں نان نفقہ نہ دینے کا جھوٹا دعوی دائر کیا تھا جسے وہ ثابت نہیں کرسکی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے،جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسخِ نکاح کا اختیار جج کو صرف درج ذیل صورتوں میں حاصل ہوتا ہے:
ا۔شوہر نامرد ہو۔
۲۔ متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہواور نہ طلاق دیتا ہو۔
۳۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
۴۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو،لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہواور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہو۔
۵۔ایسا پاگل ہویا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں ناقابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،نیزفسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے،اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا۔(فقہی مقالات:2/ 192)
بہر کیف!عورت مذکورہ بالا وجوہ میں سے جس وجہ کی بنیاد پر بھی فسخِ نکاح کا دعوی دائرکرے اسے اپنے دعوی کو شرعی شہادت(کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہیں صفات کی حامل دوعورتوں اور ایک مرد کی گواہی)سے ثابت کرنا پڑے گا،شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں،چونکہ مذکورہ صورت میں اس عورت نے اپنے دعوی کو گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کیا،بلکہ عدالت نے محض اس کے دعوی کی بناء پر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کی ہے،اس لئے عدالت کی جانب سے جاری کی گئی ڈگری شرعا معتبر نہیں ہے اور جب تک اس خاتون کا شوہر اسے طلاق یا خلع نہ دے وہ اس کے نکاح میں رہے گی۔
نیز اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے کہ شوہر ضابطے اور دستور کے مطابق بیوی کے تمام حقوق کی رعایت رکھ کر اسےساتھ رکھنے پر آمادہ ہے،عورت نے بغیر کسی معقول وجہ کے عدالت سے رجوع کیا ہے تو اس اقدام پر بیوی گناہ گار بھی ہوگی،کیونکہ احادیث مبارکہ میں بلاضرورت اس طرح طلاق کے مطالبے پرسخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ ایسی عورتوں کو منافق قرار دیا گیا ہے اور ایک روایت میں آتا ہے کہ جس عورت نے بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگی اس پرجنت کی خوشبو بھی حرام ہوگی۔
حوالہ جات
"المبسوط للسرخسي" (6/ 173):
"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد".
"سنن الترمذي " (3/ 485):
"عن ثوبان، أن رسول ﷲ صلى ﷲ عليه وسلم قال: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة»: «هذا حديث حسن»".
"سنن الترمذي " (3/ 484):
"عن ثوبان، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: «المختلعات هن المنافقات»".
"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح" (5/ 2136):
"(عن ثوبان قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أيما امرأة سألت زوجها طلاقا) : وفي رواية الطلاق أي لها أو لغيرها (في غير ما بأس) : وفي رواية من بأس أي لغير شدة تلجئها إلى سؤال المفارقة، وما زائدة للتأكيد (فحرام عليها رائحة الجنة) : أي: ممنوع عنها.
وذلك على نهج الوعيد والمبالغة في التهديد، أو وقوع ذلك متعلق بوقت دون وقت أي لا تجد رائحة الجنة أول ما وجدها المحسنون، أو لا تجد أصلا، وهنا من المبالغة في التهديد، ونظير ذلك كثير قاله القاضي، ولا بدع أنها تحرم لذة الرائحة ولو دخلت الجنة. (رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي) : وكذا ابن حبان والحاكم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/ذی الحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


