03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملکی قوانین اور درپیش مشکلات
71958جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

بخدمت مفتیان کرام دارالافتاء۔جامعہ الرشید احسن آباد کراچی.

عنوان: دستاویزات سے متعلق متفرق مسائل۔

بعد از سلام عرض یہ ہے کہ میرا تعلق بنگلہ زبان بولنے والے قبیلے سے ہے۔اس قبیلے کی اکثریت نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی اور تقریباً گزشتہ پانچ دہائیوں سے وطن عزیز پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔ قیامِ پاکستان میں اپنی پیش کردہ بے پناہ قربانی کے باوجود وطن عزیز پاکستان میں بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اس وقت جس مسئلے کی طرف آپ حضرات کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ قومی ادارہ نادرا کی جانب سے شناختی کارڈز، بچوں کا ب فارم وغیرہ کے اجراء میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس برادری کی جانب سے ان اہم دستاویزات کے حصول کے لئے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں۔ جن سے متعلق وہ شرعی نقطہ نظر اور قرآن و سنت کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں تین اہم باتیں نکات کی صورت میں بالترتیب پیش خدمت ہے۔

الف: دستاویزات کا حصول کیوں ضروری ہے

 مسئلہ روزگار: شناختی کارڈ نہ ہونے باعث کوئی بھی نجی و سرکاری، ملکی و غیر ملکی ادارے ایسے افراد کو روزگار کے مواقع میسر کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا۔

مسئلہ جائیداد: شناختی کارڈ نہ ہونے سے کوئی بھی فرد گاڑی، مکان وغیرہ اپنے نام نہیں کروا سکتا۔

مسئلہ اکاؤنٹ: کوئی بھی فرد بینک،گیس،بجلی کےاداروں کی سہولیات سے مستفید نہیں ہو سکتا۔

مسئلہ تعلیمموجودہ دور میں ب فارم ، شناختی کارڈ کے بغیر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مدراس اور یونیورسٹيوں میں تو در کناں بلکہ ابتدائی تعلیم کے لیے بھی مستند اداروں میں داخلہ نہیں دیا جاتا۔ جس سے ہزاروں بچوں کا مستقبل تشویشناک ہے۔

مسئلہ ذاتی تحفظ: دستاویزات نہ ہونے کے سبب سیکیورٹی اہلکار اور ادارے جانچ پڑتال کرتے رہتے

ہیں جو مستقل ایک ذہنی دباؤ کا سبب بنا رہتا ہے۔

مسئلہ دین: صاحبِ استطاعت حج وغیرہ کی ادائیگی سے محروم رہتے ہیں۔

ب: ملکی اداروں کا رویہ:

 ملکی ادارے بشمول نادرا،وفاقی محتسب اعلی، زونل بورڈ،ہائی کورٹ اور پاسپورٹ آفس اس قبیلے کے افراد سے ۱۹۷۰ یا اس سے پہلے کے زمینی و دیگر دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ حق بات یہ ہے کہ بنگلہ برادری کے تقریباً ۹۵فیصد افراد کے پاس عدم شعور اور ماضی میں عدم ضرورت کی وجہ سے ۵۰ سال پرانے دستاویزات موجود نہیں ہیں۔جس کی وجہ سے سالہا سال سے اس قبیلے کے افراد مختلف اداروں میں دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔لیکن شاذو نادر ہی کوئی فرد قانونی طریقے سے دستاویزات کے حصول میں کامیاب ہوتا ہے۔

ج:- دستاویزات کے حصول کے لیے اقدامات:

جن کی پیدائش بنگلہ دیش میں ہوئی تھی وہ اپنی جائے پیدائش کراچی پاکستان درج کروا کے پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرتے ہیں۔مادری زبان بنگلہ کے بجائے اُردو،بلوچی وغیرہ درج کرواتے ہیں۔بعض افراد حقیقی خاندان کو چھوڑ کر اپنا تعلق ایسے خاندان کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں جن کے دستاویزات مکمل ہوں۔ اور فرضی ماں باپ بہن بھائیوں کے دستاویزات استعمال کرکے اپناشناختی کارڈ بنواتے ہیں۔جعلی راشن کارڈ اور جعلی غیر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بنا کر اُن کے استعمال سے اپنا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بناتے ہیں۔

بعض افراد والدین کی حیات ہی میں انکا وفات سرٹیفکیٹ بنوا کراسکی مدد سے اپنا کارڈ بناتے ہیں۔

بعض افراد حالات سے تنگ ہوکر بھاری بھر کم رشوت پیش کر کے دستاویزات بناتے ہیں۔

آپ حضرات کا وقت بہت قیمتی ہے۔لیکن چونکہ یہ مسئلہ ذاتی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ تقریباً اس ملک میں بسنے والے چالیس لاکھ افراد ان تمام مسائل کا شکار ہیں۔۔ ۱۹۷۱ میں ہجرت کے بعد اس برادری کی چوتھی نسل اس ملک میں بس رہی ہے لیکن اس کے باوجود اس ملک کے ادارے اس قبیلے کے افراد کو دل سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور مسائل سے تنگ آکر اس قبیلے کے افراد نے غلط ڈیٹا کا استعمال شروع کردیا ہے۔ آپ حضرات سے درد دل کے ساتھ گذارش یہ ہے کہ مندرجہ بالا تفصیلات کی روشنی میں بنگلہ برادری کے دستاویزات کے حصول کے لیے اختیار کردہ اقدامات کی شرعی حیثیت کو نکتہ وار تفصیلا واضح فرمائیں اور ان مسائل سے چھٹکارے کے لئے شرعی حدود میں کس انداز میں کوشش کرنی چاہئےاس کی رہنمائی فرمائیں۔۔ اور ملکی اداروں اور اعلیٰ منصب پر فائز اعلیٰ افسران کی کیا ذمّہ داری ہے اسکی بھی وضاحت فرمائیں۔ نیز جن افراد نے غلط ڈیٹا یا جعلی دستاویزات فراہم کرکے کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کیے ہیں انکے لئے اس کارڈ کے استعمال کی کیا حیثیت ہے۔ جبکہ ریکارڈ کی درستگی کروانے سے معاملہ مزید پیچیدگیوں کا سبب بنے گا اور مزید مسائل کو جنم دے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔قانون اجتماعی اصولوں پر مشتمل ایک ایسا نظام ہوتا ہے جس کو کسی ادارے (عموماً حکومت) کی جانب سے کسی معاشرے کو منظم کرنے  کے لیے نافذ کیا جاتا ہے اور اس ہی پر اس معاشرے کے اجتماعی رویوں کا دارومدار ہوتا ہے۔

انسان مختلف قبیلوں، علاقوں اور رویوں کے مالک ہیں۔ مزاج، پسند، ناپسند، چاہت اور مختلف اختیارات رکھتے ہیں۔ ایک قبیلہ، قوم بعض دفعہ دوسرے سے طاقتور اور بعض دفعہ کمزور ہوتے ہیں، اس لحاظ سے وہ ایک دوسرے کے حق کو  چھیننے اور اپنی بڑھوتری کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اگر ایسا ہو تو معاشرہ اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے اور بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا معاشرہ ترقی و رشد حاصل نہیں کرسکتا اور مسلسل تنزلی کا شکار ہو کر مردہ ہو جاتا ہے۔لہذاکوئی بھی معاشرہ اُس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک وہاں امورِ زندگی چلانے کیلئے ضروری قوانین نہ بنائے جائیں. لاقانونیت اور انارکی کے نتیجے میں ایک محدود پیمانے پر ہونے والا ظلم و جبر وسیع پیمانے پر پھیل جاتا ہے،  اس لیے ریاستیں اپنے شہریوں کو سہولت اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے  قوانین وضع کرتی

ہیں اور ان کی پابندی لازمی قرار دیتی ہیں،معاشرے کی ترقی کا انحصار ان قوانین پر عمل کرنے میں ہی ہوتا ہے۔ آج دُنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں خوشحالی کی ایک بڑی وجہ قانون اور اس کی پابندی و احترام ہے۔

 اسلام امن وسکون اور سلامتی کا مذہب ہے۔ مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر معاشرے، ہرقوم اور ہرملک کے کچھ قوانین اور ضوابط ہوتے ہیں، پُرامن اور پُر سکون زندگی گزارنے کے لیے ان کی پابندی از حد

ضروری ہوتی ہے۔

2۔قانون کی ضرورت، اس کی پابندی اور اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے،مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب لو گ  ان قوانین پر عمل نہیں کرتے ، رشوت  اورکرپشن کی خاطر دوسروں کو مشکل میں ڈال لیتے ہیں،کم لوگ ایسے ہیں جو عملاً قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوں ،قانون کی افادیت کےقائل ہونے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کرنے کی چند وجوہ ہیں:

 1۔اسلامی تعلیمات سے روگردانی۔        2۔خود غرضی اور مفاد پرستی۔

3۔اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھنا۔        4۔حب الوطنی سے بے توجہی۔

5۔امن وسلامتی کی ناقدری۔

چنانچہ اسلام ان سب وجوہ کاخوبی سے تدارک کرکے مسلمانوںکو قانون کا پابند بناتا ہے، انہیں خدا پرستی اور ایثار وسخاوت اور اکرامِ مسلم کا درس دیتا ہے ، ان میں آخرت کی جواب دہی کا احساس وشعور پیدا کرتا ہے اور انہیں احساس دلانا چاہتا ہے کہ اگر وہ اپنے اثر ورسوخ یا دھوکے فریب سے دنیا میں قانون کی خلاف ورزی کی سزا سے بچ بھی گئے تو آخرت میں اُنہیں خدا کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

اوپر ذکرکردہ قوانین معاشرے کی اکثریت کے لیے آرام وسکون اور ان کی حفاظت کی خاطر ہیں،ان کے نفاذ میں در آنے والی خرابیاں ہمارے معاشرے کی اپنی پیداکردہ ہیں،رشوت اورکرپشن کی خاطر لوگوں کو تنگ کیاجاتاہے،لہذا اس بارے میں بہتر طریقہ کار یہ ہےکہ ان قوانین کو ختم کرنے کے بجائے سماج میں ظلم وزیادتی کے خلاف احساس اجاگر کیا جائے،اس لیے کہ قوانین کو ختم کرنے سے معاشرتی بے راہ روی ،انتشار اور انتظامی مسائل سے جو مشکلات پیش آئیں گی،وہ ناقابل برداشت ہوں گی۔

3۔ مسلم حکومتوں اور ریاستوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ہدایت فرمائی ہے کہ ان

کی اس وقت تک اطاعت کی جائے جب تک یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم نہ دیں۔ ظلم اور کرپشن کے خلاف

آواز بلند کی جائے اور معاشرے اور حکومت کی اصلاح کی کوشش جاری رکھی جائے۔ آئین او رقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے برائی کے خلاف جدوجہد بہر حال مسلمانوں پر اجتماعی طور پر لازم ہے۔

4۔جعلی سرٹیفکیٹ بنوانا اور اس کے لیے جھوٹی دستاویزات جمع کرانا جھوٹ اور دھوکاہے ،اس لیےاس کا گناہ ہوگا،اس سے توبہ واستغفاراور آئندہ اجتناب لازم ہے۔

5۔رشوت لینااوردینادونوں حرام ہیں، قرآن وحدیث میں اس پرسخت وعیدیں آئی ہیں، حتی الامکان اس سے بچنافرض ہے ،البتہ دفع ظلم کے لئے اوراپناحق وصول کرنے کے لئے بحالت مجبوری اگررشوت دی جائے توامیدہے کہ رشوت دینے والاگناہگارنہیں ہوگا،ساراوبال رشوت لینے والے پرہوگا۔ تاہم ایسی صورت میں بھی رشوت دینے کاجواز مطلق نہیں ہے،بلکہ اس میں یہ تفصیل ذیل ہے:

·       ۔رشوت دیکر ایسی نوکری حاصل کرنا جس کی اہلیت رشوت دہندہ میں نہ ہوجائز نہیں،خواہ وہ اس نوکری کے لئے درخواست دینے والااکیلاامیدوار ہی کیوں نہ ہو۔

·       ۔امیدوار متعددہوں ،توکم اہلیت رکھنے والے امیدوار کے لئےرشوت دیکراپنے سے زیادہ اہلیت والے کسی امیدوارکو نوکری سے محروم کرانا جائزنہیں ۔

·       ۔مساوی صلاحیت کے کئی امیدوارجمع ہوں اور سیٹیں کم ہونے کی وجہ سے نوکری بعض کو ملنا طے ہوتو ایسی صورت میں بھی کسی امیدوارکے لئےرشوت دیکردوسرے امیدواروں سے رشوت کی بنیاد پرآگے بڑھناجائزنہیں۔

·    اگرمذکورہ بالاتینوں صورتیں نہ ہوں ،مثلادرخواست دہندہ اکیلاامیدوار ہواوراس میں متعلقہ کام کی اہلیت موجودہو،یا امیدوارمتعددہوں لیکن رشوت دینے والاامیدواردوسرے امیدواروں کی بنسبت متعلقہ کام کا زیادہ اہل ہو،یاسب امیدوار صلاحیت میں مساوی ہوں ،مگرسیٹیں زیادہ ہونے کی وجہ سے کسی امیدوار کے رشوت دینے کی وجہ سے دوسرے امیدوار نوکری سے محروم نہ ہوتے ہوں ،تو ان صورتوں میں سرکاری اہل کاروں کی ٹال مٹول اور ظلم سے بچنے کے لئے بقدرضرورت رشوت دینے کی گنجائش ہے،ایسی صورت میں رشوت کا گناہ ان اہل کاروں کو ہوگا ،نوکری حاصل کرنے والے امیدوار کو نہ ہوگا۔

6۔جعلی دستاویزات یارشوت سے نوکری یا دیگر فوائد حاصل کرنا جائز نہیں،تاہم اگر اس کا م کے کرنے کی پوری  

صلاحیت موجود ہوتو پھر تنخواہ حرام نہیں ہوگی۔

7۔حکومتی آفیسرز کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ قانون کے مطابق لوگوں کے لیے آسانی اور سہولت  پیداکریں،جہاں قانونی یا انتظامی طور پر کوئی سقم ہواسے دور کرنے کی کوشش کریں۔

حوالہ جات

رد المحتار" 21 / 295 :

 وفی المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد۔ "

 رد المحتار" 21 / 295 :

الثالث : أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط۔۔ الرابع : ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب۔

 "فيض القدير للمناوی " 14 / 107:

(الراشي والمرتشي) أي آخذ الرشوة ومعطيها (في النار) قال الخطابي :إنما تلحقهم العقوبة إذا استويا في القصد فرشي المعطي لينال باطلا فلو أعطى ليتوصل به لحق أو دفع باطل فلا حرج وقال ابن القيم :الفرق بين الرشوة والهدية أن الراشي يقصد بها التوصل إلى إبطال حق أو تحقيق باطل وهو الملعون في الخبر فإن رشى لدفع ظلم اختص المرتشي وحده باللعنة ۔ "ردالمحتار"7/663:

ولواضطرالی دفع الرشوة لاحیاء حقہ جاز لہ الدفع وحرم علی القابض۔

 "رد المحتار"6/423:

(وفیہ ایضا)دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظلم عن نفسہ ومالہ لاستخراج حق لہ لیس برشوة یعنی فی حق الدافع۔

قال العلامة ابن نجيم رحمه الله تعالى( البحر الرائق:8/ 3):

وأما ركنها فهو الإيجاب والقبول والارتباط بينهما، وأما شرط جوازها فثلاثة أشياء: أجر معلوم، وعين معلوم، وبدل معلوم، ومحاسنها دفع الحاجة بقليل المنفعة، وأما حكمها فوقوع الملك في البدلين ساعة فساعة.

(صحيح مسلم :1/ 72):

عن ابى هريرةرضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا.

(سنن الترمذي :4/ 130):

عن أبى هريرةرضي الله عنه، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " آية المنافق ثلاث : إذا حدث كذب وإذا وعد اخلف وإذا ائتمن خان " . هذا حديث حسن

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

09/جمادی الثانیہ1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب