| 85482 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
ہمارے والد نے اپنا اپارٹمنٹ 1کروڑ میں بیچ کر رقم اسلامی بینک میں رکھوائی ہے اور اس سے جو ماہانہ منافع آتا ہے وہ سب کرائے میں خرچ ہو جاتا ہے ۔کرائے کہ علاوہ گھر کا دیگر خرچہ بیٹے برداشت کرتے ہیں ۔ ایسی رقم جو بینک میں رکھی ہو اس پر زکوۃ واجب ہو گی؟ والد صاحب کہ پاس اس کے علاوہ کوئی رقم، پراپرٹی یا زیور وغیرہ نہیں ہے، جو منافع آتا ہے وہ سارا گھر کے کرائے کی مد میں چلا جاتا ہے، ایسی صورت میں کوئی تجویز بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلامی بینک میں منافع حاصل کرنے کی غرض سے جمع کی گئی رقم مضاربہ یا مشارکہ کے تحت کاروبار میں لگائی جاتی ہے اور کاروبار میں لگائی ہوئی رقم پر بھی زکوۃ واجب ہوتی ہے، لہذا آپ کے والد نے جو رقم بینک میں رکھوائی ہے اس پر ہر سال زکوۃ لازم ہے، البتہ منافع چونکہ کرائے میں استعمال ہو جاتا ہے اس لئے اس پر زکوۃ نہ ہوگی۔ بینک میں مال رکھا رہنے سے اگر یہ امکان ہے کہ اس سے صحیح طور پر فائدہ نہیں ہو رہا ، تو متبادل صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے کسی زیادہ نفع بخش کاروبار میں لگایا جائے ، کیونکہ بینک سے حاصل ہونے والا نفع عموما دیگر کاروبار کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ اس مال سے رہائش کے لئے مکان خرید لیا جائے تاکہ کرائے کی ادائیگی سے بھی نجات مل جائے اور رقم بھی محفوظ ہو جائے۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية، (277/23):
من أعطى ماله مضاربة لإنسان فربح فزكاة رأس المال على رب المال اتفاقا، أما الربح فقد اختلف فيه فظاهر كلام الحنفية أن على المضارب زكاة حصته من الربح إن ظهر في المال ربح وتم نصيبه نصابا.
«بحوث في قضايا فقهية معاصرة» (ص162):
تجب الزكاة على الأوراق النقدية بالإجماع، وليس على قول من يقول بوجوب الزكاة على الدين فقط؛ لأنها ليست سندات دين، وإنما هي في حكم الفلوس النافقة، والفلوس النافقة في حق الزكاة كعروض التجارة، تجب عليها الزكاة إذا بلغت قيمتها نصاب الفضة.»
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
13/ جمادی الاولی/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


