| 85803 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم ! میں نے اس سے ملتی جلتی حدیث سنی تھی کہ ایک صحابی اللہ سے صبر مانگ رہے تھے تو اللہ کے نبی نے منع فرمایا یا یہ کہا کہ تم نے اللہ سے مصیبت مانگ لی کہ پہلے مصیبت آئے گی پھر اس پر صبر ہو گا۔ اور اس پر مولانا سعد جو انڈیا کے تبلیغی جماعت کے امیر ہیں فرما رہے تھے”اگر مصیبت ہو تو صبر مانگنا چاہیے ورنہ صبر نہیں مانگنا چاہیے اور اللہ کے نبی بھی اللہ سے عافیت مانگتے تھے“۔ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس موضوع سے ملتے جلتے ایک مسنون دعا کے بارے میں سوالات ہیں۔ دعا یہ ہے:
(اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا، اللَّهُمَّ مَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُوَّاتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا)
اس سے متعلق درجہ ذیل سوالات ہیں ١- دعا کے یہ دو حصے، ایک حصہ یہ "ہمیں یقین دے جس کی وجہ سے تو دنیا کی مصیبتوں کا جھیلنا ہم پر آسان کر دے " اور دوسرا حصہ " ہماری مصیبت ہمارے دین پر نہ ڈال" ، ان حصوں میں اللہ سے مصیبتوں کا جھیلنا آسان مانگنے اور مصیبت دین پر نہ ڈالنے سے کہیں اللہ سے مصیبت تو نہیں مانگی جا رہی کہ پہلے مصیبت نازل ہو اور پھر اس کا جھیلنا آسان ہو یا وہ مصیبت دین پر نہ آئے ؟ ٢- دعا کا یہ حصہ " ہمارا بدلہ صرف ان لوگوں پر دائر کر دے جو ہم پر ظلم کریں"، اس میں اپنے اوپر ظلم کا ہونا تو نہیں مانگ رہے کہ ظلم ہو گا تو بدلہ لیا جائے گا؟ ٣- دعا کا یہ حصہ " ہماری مدد فرما ان لوگوں کے مقابلے میں جو ہم سے دشمنی رکھیں" ، اس حصے میں بھی اگر ہماری دشمنی نہ ہو اور ہم دعا مانگیں تو کہیں ہم اللہ سے دشمنی تو نہیں مانگ رہے کہ دشمنی ہو پھر مدد ملے ؟ نیز یہ پوری دعا عمومی طور پر بھی مانگنی چاہیے یا صرف تب مانگنی چاہیے جب کوئی مصیبت ہو یا کوئی ظلم یا دشمنی کرے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی مذکورہ پہلی حدیث سنن ترمذی کی ہے اور حسن درجے کی حدیث ہے۔بطور تمہید پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہےکہ صبرکی انواع ہیں ،جس میں سے صبر علی الطاعات (نیک کاموں پر استقامت ) اور صبر عن ترک المعصیۃ (گناہ کے کاموں سے بچنے پر استقامت )ہمیشہ مطلوب ہے۔البتہ صبر عن المصائب (مصیبتوں پر صبر)ہر وقت مطلوب نہیں ہے۔بلکہ اس میں تفصیل ہے کہ بے موقع جیسے جنگ کا موقع نہیں ہے اس کے باوجود جنگ مانگنا،یا کسی متعین مصیبت پر صبر کے بجائے عافیت مانگنی چاہیے۔جیسا کہ پہلی حدیث میں آپﷺ نے صبر کے بجائے عافیت مانگنے کا حکم فرمایا۔اور غیر متعین آفات جوکہ ہر انسان پر زندگی میں آسکتی ہیں ،انبیاءکرام پر بھی آزمائشیں آئی ہیں ،تو ان غیر متعین آفات کے لیے صبر کی دعا مانگنے میں حرج نہیں ۔ مذکورہ دوسری حدیث سے متعلق آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات درج ذیل ہیں ۔
۱۔ "ہمیں یقین دے جس کی وجہ سے تو دنیا کی مصیبتوں کا جھیلنا ہم پر آسان کر دے " اس میں کسی متعین مصیبت کو نہیں مانگا جارہا ہے،بلکہ اس یقین کو مانگا جارہا ہےکہ دنیا میں انسان پر جو بھی آزمائش آئے گی آخرت میں اس پر بہترین بدلہ ملے گا،اس یقین کی بدولت اس آزمائش کا جھیلنا آسان ہوجائے گا،اے اللہ ہمیں یہ یقین عطا فرما۔
" ہماری مصیبت ہمارے دین پر نہ ڈال" اس میں بھی کسی متعین مصیبت کو نہیں مانگا جارہا ،بلکہ یہ دعا مانگی جارہی ہےکہ اے اللہ !ہمیں ایسے کاموں میں مبتلاء نہ فرما جو نقصانِ دین کا باعث بنیں ،جیسے بد عقیدگی اور حرام کمائی وغیرہ۔
۲۔ " ہمارا بدلہ صرف ان لوگوں پر دائر کر دے جو ہم پر ظلم کریں" اس میں ظلم کو نہیں مانگا جارہا ہے ،بلکہ یہ دعا مانگی جارہی ہے کہ ہمیں صرف ان لوگوں سے بدلہ لینے کی قدرت عطا فرما جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے،تاکہ دوسرے بے گناہ آدمی اس سے محفوظ رہیں۔
۳۔" ہماری مدد فرما ان لوگوں کے مقابلے میں جو ہم سے دشمنی رکھیں" اس سے دشمنی کامانگنا لازم نہیں آتا ،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہمارے دشمن ہیں ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔
نیز یہ دعا ہر وقت مانگ سکتے ہیں کسی مصیبت یا ظلم کے ساتھ خاص نہیں ہے۔آپ ﷺ اکثر اوقات جب کسی مجلس سے اٹھتے تو اپنے صحابہ کرام کے لیےاس دعا کے مانگنےکا اہتمام فرمایا کرتے تھے،لہذا اس دعا کااہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام الترمذي في "سننه" (3527:541/5) من حديث معاذ بن جبل ،قال: .... سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا وهو يقول: " اللهم إني أسألك الصبر، فقال: «سألت الله البلاء فسله العافية».حدثنا أحمد بن منيع قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن الجريري، بهذا الإسناد نحوه. هذا حديث حسن.
قال العلامة المباركفوري:"ومن اليقين "أي اليقين بك وبأن لا مرد لقضائك ،وبأنه لا يصيبنا إلا ما كتبته علينا ،وبأن ما قدرته لا يخلو عن حكمة ومصلحة مع ما فيه من مزيد المثوبة "ما تهون به "أي تسهل أنت بذلك اليقين مصيبات الدنيا ؛فإن من علم يقينا أن مصيبات الدنيا مثوبات الأخرى لا يغتم بما أصابه ولا يحزن بما نابه.
(واجعل ثأرنا) بالهمز بعد المثلثة المفتوحة أي إدراك ثأرنا على من ظلمنا أي مقصورا عليه ،ولا تجعلنا ممن تعدى في طلب ثأره فأخذ به غير الجاني كما كان معهودا في الجاهلية فنرجع ظالمين بعد أن كنا مظلومين.
"ولا تجعل مصيبتنا في ديننا "أي لا تصبنا بما ينقص ديننا من اعتقاد السوء وأكل الحرام والفترة في العبادة وغيرها.(تحفة الأحوذي :334/9)
قال العلامة المناوي رحمه الله:(واجعل ثأرنا على من ظلمنا) أي مقصورا عليه ولا تجعلنا ممن تعدى في طلب ثأره فأخذ به غير الجاني كما في الجاهلية أو اجعل إدراك ثأرنا على من ظلمنا فندرك به ثأرنا (وانصرنا على من عادانا) أي ظفرنا عليه وانتقم منه .(ولا تجعل مصيبتنا في دينينا) أي لا تصيبنا بما ينقص ديننا من أكل حرام واعتقاد سوء وفترة في عبادة.(فيض القدير:133/2)
قال ملا علي قاري رحمه الله:(واجعل ثأرنا) بالهمز بعد المثلثة المفتوحة، أي إدراك ثأرنا مقصورا (على من ظلمنا) ولا تجعلنا ممن تعدى في طلب ثأره ،فأخذ به غير الجاني كما كان معهودا في الجاهلية فنرجع ظالمين بعد أن كنا مظلومين.(وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا) أي لا تصبنا بما ينقص ديننا من اعتقاد السوء وأكل الحرام والفترة في العبادة وغيرها.(مرقاة المفاتيح:1727/5)
قال ملا علي قاري رحمه الله 🙁وعن ابن عمر قال قلما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم من مجلس حتى يدعو بهؤلاء الدعوات لأصحابه) أي قل تركه لهم.(مرقاة المفاتيح:1726/5)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۰۷ جمادی الثانیہ ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


