| 86380 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
السلام علیکم سوال یہ ہے کہ میری بیٹری کی دکان ہے، جس کی وارنٹی کی تفصیل یہ ہے کہ کسٹمر کے لیے کمپنی چھ ماہ کی مدت طے کرتی ہے، جب کہ دکاندار کے لیے ایک سے دو مہینے زائد دیتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فوری بیٹری فروخت نہیں ہوتی بسااوقات ٹائم لگ جاتا ہے۔ اب ایک بیٹری کی وارنٹی کسٹمر کے حساب سے تو ختم ہو جاتی ہے، اگر دکان دار کی بچی ہوئی وارنٹی سے ہم اس بیٹری کو کلیم کروانا چاہیں تو یہ صحیح ہے یا نہیں ؟
دکان دار کی بچی ہوئی وارنٹی سے اگر ہم بیٹری کلیم کروائیں اور کسٹمر سے کچھ رقم سروس چارجز کے نام پر جو کہ دکان دار کو کمپنی دیتی ہے، لے لیں تو یہ رقم لینا ہمارے لیے صحیح ہوگا یا نہیں ؟اور اگر کسٹمر خود سے کچھ رقم دے تو لے سکتے ہیں یا نہیں؟
تنقیح:سائل سے فون پر بات ہوئی تو سائل نے EXIDE کمپنی کے بارے میں بتایا کہ کسٹمر کے لیے کمپنی چھ ماہ کی مدت طے کرتی ہے ،جب کہ دکان دار کے لیے ایک سے دو مہینے زائد دیتی ہے،لیکن EXIDE,OSAKAاور PHOENIX کی کمپنی سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وارنٹی کسٹمر اور دکان دار دونوں کے لیے ایک ہی مدت کی ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں بیان کردہ صورت میں كمپنی كااپنی پروڈكٹ فروخت كرتےوقت بیٹری کلیم کروانے کے لیے اضافی مدت کا حق دکان دار کے لیےبظاہر بطور تسامح ہوگا، کیوں کہ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کسٹمر اور دکان دار کے لیے ایک ہی ورارنٹی دیتی ہے۔لہذا اگر بیٹری کی اضافی وارنٹی دکان دار کے لیے باقی ہےتو دکاندار اصولی طور پر بیٹری کلیم کروا سکتا ہے،اور اگر اس میں کوئی سروسز شامل ہوں مثلا ٹرانسپوریشن، رابطہ کاری وغیرہ تو ان کے مناسب معمولی چارجزلینے کی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (رد المحتار : 4/ 560)
وفيه:(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين. (رد المحتار : 4/ 560)
وفيه: (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا، فلو لم يكن كشرط أن لا يركب الدابة المبيعة لم يكن مفسدا كما سيجيء (ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به.(رد المحتار : 5/ 85)
قال العلامة البابرتي رحمه الله تعالى : وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا، أو؛ لأنه يقع بسببه المنازعة فيعرى العقد عن مقصوده إلا أن يكون متعارفا. (العناية شرح الهداية: 6/ 442)
واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
13/رجب المرجب6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | واجد علی بن عنایت اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


