03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگر گواہ شوہر کے طلاق دینے کے اقرار پر گواہی دیں تو طلاق کا حکم
86190طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام  اس بارے میں کہ ایک شخص کی بیوی کہتی ہے کہ شوہر نے اسے پانچ دفعہ طلاق کے صریح الفاظ بولے ہیں،جبکہ سسرال والے ہر دفعہ یہ کہہ کر بات ٹال دیتے تھے " ہم نے علماء سے پوچھ لیا ہے، یہ طلاق نہیں ہوئی. تم ان چکروں میں نہ پڑو، اپنی زندگی گزارو اور بچوں پہ دھیان دو"۔
1-پہلی طلاق شوہر نے 2011 میں دی  "اگر میں نے اس زیور کو ہاتھ بھی لگایا یا اس سے کوئی واسطہ اور تعلق رکھا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہوگی"، جبکہ 2024 میں شوہر نے اس زیور کو ہاتھ میں اٹھایا بھی اور اسے فروخت کا ارادہ کیا اور پھر ارادہ ترک کر دیا کہ یہ میرے بچوں کا ہے۔
 2-دوسری طلاق 2018 میں دی " تمہیں طلاق ہے"۔
 3-تیسری طلاق 2021 میں دی " اب اگر تم واپس گھر آئی توتمہیں طلاق ہے". جبکہ بیوی واپس گھر چلی گئی۔
 4،5- آخری دو ایک ساتھ 5 ستمبر 2024 کودیں "تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے"۔
 پہلی تینوں طلاقوں کے بعد شوہر نے رجوع کیا تھا، جبکہ شوہرصرف آخری دو طلاق کا اقرار کرتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو دو طلاق صریح الفاظ میں5 ستمبر 2024 کو دی ہیں  اور باقی تین طلاق سے انکار کرتا ہوں۔ بیوی کے پاس کوئی شرعی گواہ نہیں ہے۔(گواہان شوہر کا بھائی، اسکی بہن، اسکی دو بھاوج، اور اسکی بھتیجی ہیں، جو گواہی دینے سے گریزاں ہیں)، جبکہ شوہر کی ماں کی فوتگی (16،17،18 ستمبر 2024) کے موقع پر تعزیت کیلئے جانے والے چند افراد کے سامنے شوہر نے اقرار کیا تھا کہ میں نے ان آخری دو طلاقوں سے پہلے بھی ایک مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق دی تھی ،لیکن اس وقت وہ حاملہ تھی اور پھر میں نے رجوع کر لیا تھا ،اور اس کے بعد میری ایک بیٹی بھی ہوئی۔لہذا مجھے پنجاب میں ایک عالم نے بتایا کہ وہ طلاق کالعدم ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں، میں صرف آخری دو طلاقوں کا اقرار کرتا ہوں اور میرے پاس اب بھی ایک طلاق کا اختیار باقی ہے۔
 وہ افراد اس کے اقرار کی گواہی دیتے ہیں لیکن اب شوہر اس اقرار سے بھی انکار کرتا ہے ،حالانکہ اس کی بیوی بھی کہتی ہے کہ  اس نے جس طلاق کا اقرار ان افراد کے سامنے کیا ہے، وہ 2021 والی طلاق ہے، میں اس وقت حاملہ تھی اور جولائی 2022 میں ہماری بیٹی کی پیدائش ہوئی، لیکن اب میرا شوہر منکر ہے۔
 اب شوہر کے اقرار بالطلاق کے گواہ بھی موجود ہیں، انہوں نے پہلے بھی گواہی دی ہے اور آئندہ بھی دینے کو تیار ہیں۔ بیانِ حلفی بھی لیا جاچکا ہے۔ ایسی صورت میں شوہر جس طلاق اور اس کے اقرار کا منکر ہے، کیا یہ طلاق بیوی کے قول اور اقرار بالطلاق کےگواہوں کو قابل قبول سمجھ کر شریعت محمدی میں ان دو طلاقوں کے ساتھ مل کر تین طلاق مغلظ بن جاتی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر شوہرکے ایک طلاق دینےاور  اس کے رجوع کے اقرار پر شرعی گواہ موجود ہیں اور اب وہ دو طلاقوں کا اقرار کرتا ہےتو اس کی بیوی کو مجموعی طور پر تین طلاقیں  واقع ہوگئی ہیں۔اب دونوں کی فی الفور جدائی لازم ہے،ان کا میاں بیوی کے طور پر رہنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

في الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك، وإنما علق بشرط الرجعة فلو حرمت حرمة غليظة يتضرر بقولها، وكذلك لو جعل أمرها بيدها في تطليقتين أو بيد أجنبي، ثم أقرت بالرق؛ لأن التفويض لازم لا يقبل الرجوع فلا يمكنه التدارك، كذا في التحرير شرح الجامع الكبير. (الفتاوى  الهندية: 4/209)
قال ابن نجيم رحمه الله تعالى : لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء. ( البحر الرائق: 3 /264)
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (البقرة: 230)

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03/رجب المرجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب