03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری ملازمت میں کم ڈیوٹی دینے پر تنخواہ میں کٹوتی کا حکم
86381اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

السلام علیكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میں ایک سرکاری ملازم  ہوں اور روزانہ ہماری 8گھنٹے ڈیوٹی ہوتی ہے،لیکن اکثر اوقات کبھی ڈیوٹی پرگھنٹہ  یا آدھاگھنٹہ دیر سے پہنچتا  ہوں یا وقت سےپہلے گھنٹہ یاآدھا گھنٹہ  ڈیوٹی چھوڑکر چلا  جاتاہوں ۔ چونکہ ڈیپارٹمنٹ میں کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے  کہ جن گھنٹوں  کی ڈیوٹی  نہیں کی ہے، ان گھنٹوں کی تنخواہ کاٹ دے، لہذا ایسی صورت میں میرے لیے کونسی ایسی جائز صورت ہو سکتی  ہے کہ جن گھنٹوں  کی ڈیوٹی  نہیں کی ہے، ان گھنٹوں  کاحساب لگا کر جتنے پیسے بنتے ہیں، ان پیسوں کا استعمال کیسے اور کہاں کروں؟  تاکہ گناہ سے بچ سکوں۔ جزاک اللّہ!

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سرکاری ملازم اجیر خاص کے حکم  میں ہوتا ہے  اور اجیر خاص  متعین مدت میں حاضر ہوکر اپنے آپ کومستاجرکے حوالہ کرنےپر اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ صورت مسئلہ میں سائل  جتنے گھنٹوں کی ڈیوٹی نہیں کرتا  تو خود اپنی طرف سے  اس کا حساب لگا کر وہ رقم سرکاری خزانہ میں لوٹا دے   ۔ہاں   اگر یہ رخصت  ادارے کی سربراہ کی اجازت سے ہے  اور وہ سربراہ اس قسم کی رخصت کا قانونا مجاز بھی ہے تو پھر اس صورت  میں اس رقم  کی واپسی لازم نہیں  ہے

حوالہ جات

قال الفخر الزيلعي رحمه الله تعالى : الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل سمي أجيرا خاصا وأجير وحد؛ لأنه يختص به الواحد وهو المستأجر وليس له أن يعمل لغير.(تبيين الحقائق: 5/ 137)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : (قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) … وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة . (رد المحتار : 70/6)

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
13/رجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب