| 85229 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
(1) میرے والد گرامی .......... ناظم آباد کراچی پاکستان کی جامع مسجد میں (36) سال سے امامت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے،والد صاحب نے مسجد ہذا میں امامت شروع کی تھی، 16 جون 1989ء کو اور (36) سال بعد (2022/3/22) کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔
(2) ان کی امامت کی تنخواہ 1200 روپے سے شروع ہوئی تھی اور سن 2012ء تک ان کی تنخواہ 12000 ہزارروپے تک پہنچی تھی۔
(3) جامع مسجد کی کمیٹی والد صاحب کو دیئے گئے مسجد کے مکان کا بجلی کا بل بھی والد صاحب سے وصول کرتی تھی۔
(4) مسجد کی طرف سے دیئے گئے مکان کی تمام تر مرمت اور ماہانہ اخراجات یہاں تک کہ مسجد کے مکان کا رنگ روغن و غیرہ کے اخراجات ہمیشہ والد صاحب نے خود ہی ادا کیے۔
(5) والد صاحب 2016ءسے شوگر کے مرض میں مبتلا تھے، کسی بھی قسم کی بیماری میں مسجد کمیٹی نے کوئی تعاون نہیں کیا ۔
(6) 2018ء میں والد صاحب کو دل کی تکلیف ہو گئی اس موقع پر دل کے علاج کے لیے ٹبہ ہسپتال میں علاج شروع کیا گیا، اس علاج پر کئی لاکھ روپے خرچ ہوئے، جس میں مسجد کی طرف سے کچھ بھی تعاون نہیں کیا گیا، اس علاج میں ان کی بیوی اور ان کے بیٹے نے علاج کے لیے اپنی قیمتی چیزیں بیچ کر علاج کروایا۔
(7) جب زندگی کی آخری بیماری کے وقت ٹبہ ہسپتال میں داخل کیا گیا اور پھر علاج کے دوران انتقال ہو گیا، اس موقع پر بھی تقریبا370000 ہزار روپے کا خرچہ ہوا تھا، جس میں سے انتقال کے وقت مسجد کمیٹی نے صرف25000 روپے دیئے کہ تجہیز و تکفین اور قبر کی مد میں ہیں جو کہ ظاہر ہے ناکافی تھے۔
(8) شوگر کے علاج کے لئے ناظم آباد نمبر 2 میں بقائی ہسپتال میں مستقل علاج چلتا رہا، اس تمام تر علاج میں مسجد انتظامیہ کی طرف سے کچھ بھی نہ تو تنخواہ میں اضافہ کیا گیانہ کوئی تعاون کیا گیا سوائے ایک موقع یعنی وفات کے وقت 25000 روپے دیئے گئے ۔
(9) جس رات فالج کی تکلیف میں مبتلا ہوئے اس رات کی نماز عشاء بھی خود پڑھائی تھی۔
(10) جب والد صاحب کا(2022/3/22) انتقال ہو ا تو اس وقت 22500 تنخواہ تھی۔
(11) مسجد کا چندہ بھی اچھی تعداد میں جمعہ کے دن جمع ہوتا ہے اور مسجد کی کافی دکانیں ہیں، جن کا کرایہ بھی بڑی رقم کی صورت میں جمع ہوتا ہے اور ہفتہ بھر بھی چندے کے پیسے آتے رہتے ہیں اور بینک میں بھی بڑی مقدار میں مسجد کی رقم موجود ہے۔
(12) مسجد کے خادم اور مؤذن سے بجلی اور گیس کے بل وصول نہیں کئے جاتے، بلکہ مسجد کمیٹی مسجد کے چندے سے دیتی ہے۔
(13) مرحوم والد گرامی کو گھر کے اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ہر ماہ کسی نہ کسی سے بطور قرض کچھ نہ کچھ رقم لینا پڑتی تھی۔ ان تمام امور کے بعد مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
سوال نمبر 1: کیا اس مہنگائی کے دور میں مسجد کی آمدنی ہونے کے باوجود 2022ء میں امام و خطیب کےلئے (22500) شرعاً و ا خلا قاً جائز ہے ؟
سوال نمبر 2: امام مسجد سے بجلی وغیرہ کے بل کی مد میں رقم وصول کرنا درست ہے؟
سوال نمبر 3: اگر مسجد کی انتظامیہ نے اس میں کو تاہی کی ہے تو ایسے افراد کو اخلاقااز خود مسجد کمیٹی سے استعفاء دے دینا چاہیےیا نہیں؟
سوال نمبر 4: اگر مسجد کی انتظامیہ کو مرحوم امام صاحب کے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا تو اب انتظامیہ کو اپنی غلطی کی تلافی کیسے کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ امامت کا منصب دینی اعتبار سے بہت اہم اور عظیم الشان منصب ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سب سے عظیم حکم (نماز) کی ادائیگی کے لیے وجود میں آیا ہے، اس کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکارِدوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں خود امامت کا منصب سنبھالا، ان کے بعد امتِ مسلمہ کی سب سے عظیم شخصیات خلفاء راشدین حضرت ابوبکر،عمر،عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اسلامی سلطنت کے حکمران ہونے کے ناطے امامت کے منصب پر فائز رہے، ان کے بعد بھی عرصہٴ دراز تک خلیفہٴ وقت کی طرف سےاس منصب کو سنبھالنے کا سلسلہ جاری رہا۔پھر آہستہ آہستہ جب حکمرانوں میں بے دینی پھیلنے لگی تو امت کے روحانی پیشوا یعنی علمائے کرام نے اس منصب کے تقدس اور اہمیت کے پیشِ نظر اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کراس کو سنبھالنا شروع کیا، اس لیے مسلم معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ منصب امامت کی اہمیت اورحیثیت کو سمجھتے ہوئے ائمہ کرام کا اعزاز واکرام بجا لائےاور ان کے حقوق میں ہرگز کوتاہی سے کام نہ لے۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ امام مسجدچونکہ پورا دن امامت کی بجاآوری کے لیے پابند ہوتا ہے، کیونکہ صبح سے رات تک پانچوں نمازیں، نکاح، نمازِ جنازہ اور صبح وشام بچوں کو قرآن پڑھانا ان کی ذمہ داری میں شامل ہے، اس لیےان کی تمام تر ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنا اہلِ محلہ کی ذمہ داری ہے، لہذا ان کو کم سے کم اتنا وظیفہ دینا ضروری ہے جس سے ان کی روز مرہ کی ضروریات بآسانی پوری ہو سکیں اور وہ اطمینان کے ساتھ امامت کی ذمہ داری نبھا سکیں۔خلافت راشدہ اور اس کے بعد کی اسلامی دورِ حکومت میں قاضی اور دیگر شعبوں کے حضرات کی تنخواہیں ان کے منصب کے حساب سے مقرر کی جاتی تھیں، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے زمانے کے قاضی سلیمان بن ربیع باہلی رحمہ اللہ کو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ قاضی شریح رحمہ اللہ کو پانچ پانچ سو درہم دیتے تھے، جو کہ آج کے اعتبار سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے رقم بنتی ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں مسجد کی کمیٹی کا امام صاحب کو اتنی کم تنخوا دینا بالکل مناسب نہیں تھا، اس کےساتھ ساتھ ان سے بجلی گیس کے بلز اور گھر کی مرمت واصلاح کی ذمہ داری بھی ان پر ڈالنا کسی طرح بھی درست نہیں تھا، خصوصاً جبکہ مسجد کا فنڈ بھی کافی ہوتا ہے اور سوال میں تصریح کے مطابق بینک میں بھی ایک بڑی رقم موجود ہے، جس سے مسجد سمیت امام صاحب کے تمام تر اخراجات بآسانی پورے کیے جا سکتے تھے، نیزاخراجات کی ادائیگی کے سلسلے میں لوگوں کے عرف وعادت کو دیکھا جائے گا اورعلامہ شامی رحمہ اللہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ خرچ ہر زمانے کے حساب سے مختلف ہوتا ہے، لہذاعام طور پر معاشرے میں ایک متوسط گھرانہ میں پیش آنے والے ہنگامی حالات سمیت روز مرہ کے اخراجات پورے کرنے میں جتنی رقم صرف ہوتی ہو امام مسجد کے لیے کم از کم اتنی تنخواہ مقرر کرنا ضروری ہے، تاکہ معمول کی ضروریاتِ زندگی کے علاوہ حادثاتی طور پر پیش آنے والے حالات جیسے بیماری اور بچوں کی پیدائش وغیرہ کے مشکل اوقات میں بھی ان کو کسی پریشانی کا سامنانہ ہو اور محتاج بن کر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئے۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے رواں سال ایک مزدور کی تنخواہ سینتیس(37000) ہزارروپےمقرر کی گئی ہے اور مزدور کا شمار معاشرے کے غریب طبقات میں ہوتا ہے، لہذا امام مسجد کی تنخواہ ان کے منصب کے مطابق اور حضرت عمروعلی رضی اللہ عنہما کے طرزِ عمل کے پیشِ نظرموجودہ مہنگائی کے دور میں لاکھوں میں یا کم از کم اتنی کہ جس سے روزمرہ اور ہنگامی اخراجات بسہولت پورے ہو سکیں مقرر کرنا ضروری ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 23) دار الكتب العلمية- بيروت:
ورزق الإنسان كفايته في العرف والعادة كرزق القاضي والمضارب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 389) دار الفكر-بيروت:
وجاز (رزق القاضي) من بيت المال لو (كان) بيت المال حلالا جمع بحق وإلا لم يحل وعبر بالرزق ليفيد تقديره بقدر ما يكفيه وأهله في كل زمان ولو غنيا في الأصح.
قال ابن عابدين: (قوله في كل زمان) متعلق بتقدير أو بيكفيه أي يقدر بقدر كفايته في كل زمان، لأن المؤنة تختلف باختلاف الزمان (قوله ولو غنيا في الأصح) عبارة الهداية ثم القاضي إذا كان فقيرا، فالأفضل بل الواجب الأخذ لأنه لا يمكنه إقامة فرض القضاء إلا به إذ الاشتغال بالكسب يقعده عن إقامته، وإن كان غنيا فالأفضل الامتناع على ما قيل رفقا ببيت المال، وقيل الأخذ، وهو الأصح صيانة للقضاء عن الهوان، ونظرا لمن تولى بعده من المحتاجين، لأنه إذا انقطع زمانا تعذر إعادته اهـ
المبسوط للسرخسي (16/ 102) دار المعرفة - بيروت:
وذكر عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كان يرزق سليمان بن ربيعة الباهلي عن القضاء كل شهر خمسمائة درهم وفيه دليل على أن الإمام يعطي القاضي كفايته من مال بيت المال وأنه لا بأس للقاضي أن يأخذ ذلك لأنه فرغ نفسه لعمل المسلمين فيكون كفايته وكفاية عياله في مال المسلمين وإن كان صاحب ثروة. فإن لم يأخذ واحتسب في عمل القضاء فهو خير له والأصل فيه قوله تعالى: {ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف} [النساء: 6] والآية في الوصي وهو يعمل لليتيم، كما أن القاضي يعمل للمسلمي، وأن الصحابة رضوان الله عليهم فرضوا لأبي بكر رضي الله عنه مقدار كفايته من مال المسلمين، إلا أنه أوصی إلی عائشة رضي الله عنها أن ترد جميع ذلك حتى قال عمر رضي الله عنه: يرحمك الله، لقد أتعبت من بعدك، وعمر رضي الله عنه كان يأخذ كفايته من مال بيت المال، وعلي رضي الله عنه كذلك كان يأخذ كما قال: إن لي
من مالكم كل يوم قصعة ثريد، وعثمان رضي الله عنه كان لا يأخذ لثروته............. وعلي رضي الله عنه كان يرزقه كل شهر خمسمائة درهم وذلك لقلة عياله في زمن عمر رضي الله عنه ورخص سعر الطعام وكثرة عياله في زمن علي رضي الله عنه وغلاء سعر الطعام فإن رزق القاضي لا يتقدر بشيء لأن ذلك ليس بأجر فالاستئجار على القضاء
لايجوز وإنما يعطي كفايته وكفاية عياله. وكان بعض أصدقاء شريح رحمه الله عاتبه في ذلك وقال لو احتسبت قال في جوابه وما لي لا أترزق فبين أنه فرغ نفسه لعمل القضاء ولا بد له من الكفاية، فإذا لم يرتزق احتاج إلى الرشوة ففيه بيان أن القاضي إذا كان محتاجا ينبغي له أن يأخذ مقدار كفايته لكيلا يطمع في أموال الناس.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 219) دار الفكر-بيروت:
وكان عمر - رضي الله تعالى عنه - يعطيهم على قدر الحاجة والفقه والفضل، والأخذ بهذا في زماننا أحسن فتعتبر الأمور الثلاثة اھ أي فله أن يعطي الأحوج أكثر من غير الأحوج، وكذا الأفقه والأفضل أكثر من غيرهما.
الاختيار لتعليل المختار (4/ 4) دار الفكر-بيروت:
قال: (وهو مقدر بكفايتها بلا تقتير ولا إسراف) لما تقدم من حديث هند، وليس فيها تقدير لازم لاختلاف ذلك باختلاف الأوقات والطباع والرخص والغلاء، والوسط خبز البر والإدام بقدر كفايتها. (ويفرض لها نفقة كل شهر وتسلم إليها) لأنه يتعذر القضاء بها كل ساعة، ويتعذر لجميع المدة فقدرناه بالشهر لأنه الوسط وهو أقرب الآجال.
الفتاوى الهندية (3/ 329) دار الفكر- بيروت:
القاضي إذا كان يأخذ من بيت المال شيئا لا يكون عاملا بالأجر بل يكون عاملا لله تعالى - ويستوفي حقه من مال الله تعالى - وكذا الفقهاء، والعلماء، والمعلمون الذين يعلمون القرآن.
3۔اگر مسجد کی انتظامیہ آئندہ کے لیے امام صاحب کے ساتھ مالی اور اخلاقی اعتبار سے اچھا برتاؤ کرے، امام صاحب کی مناسب تنخواہ مقرر کرے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئے اور مسجدکا فنڈ اعتدال اورشریعت کے اصولوں کے مطابق خرچ کرے تو ان کو استعفی دینے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر سابق امام صاحب کی طرح انتظامیہ کا موجودہ امام مسجد کے ساتھ بھی بدستور پرانا رویہ برقرار رہے تو اس صورت میں ایسی انتظامیہ کو مسجد کمیٹی سے برطرف ہوجانا چاہیے، کیونکہ کسی مسلمان کی حق تلفی شرعاً ناجائز ہے۔ ایسی انتظامیہ کی وجہ سے بعض اوقات ذی استعداد اور عوام کی درست طریقہ سے شرعی رہنمائی کرنے والے متدیّن علمائے کرام امامت کا منصب سنبھالنے سے گریز کرتے ہیں اور پھر ان کی جگہ کمزور استعداد والے غیر متدیّن حضرات امامت کے عظیم منصب پر فائز ہوجاتے ہیں، جس کا نقصان پورے معاشرے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ مسجد کی انتظامیہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے مسجد کے فنڈ کو استعمال کرے، بلکہ انتظامیہ کے ذمہ لازم ہے کہ وہ شریعت کے اصولوں کے مطابق اس فنڈ کو خرچ کرے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے وقف کی آمدن کے خرچ کرنے میں ترتیب یہ لکھی ہے کہ بنیادی تعمیر مکمل ہونے کے بعد سب سے پہلے امام مسجد اور مسجد میں بچوں کو پڑھانے والے استاذ پر رقم خرچ کی جائے گی، لہذا مسجد کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ اگر مسجد کے پاس فنڈ بچ جائے تو مسجد کی زیب وزنیت، قالین اور دیگر چیزوں پر خرچ کرنے سے پہلے امام صاحب کے اہل وعیال کے لیے معقول تنخواہ کا انتظام کرے، اس کے بعد جو رقم بچ جائے وہ دوسرے کاموں پر خرچ کی جائے۔ امام صاحب کو تنگی میں مبتلا کر کے مسجد کی آرائش، زیب وزنیت اور جلسوں وغیرہ پر رقم خرچ کرنا خلافِ شریعت کام ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 230) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:
والذي يبتدأ به من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أو لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحةكالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح. اھ وظاهره تقديم الإمام والمدرس على جميع المستحقين بلا شرط والتسوية بالعمارة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 367) دار الفكر-بيروت:
(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحةكالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح، هذا إذا لم يكن معينا فإن كان الوقف معينا على شيء يصرف إليه بعد عمارة البناء اھ
4۔ اگرچہ مسجد کی انتظامیہ کوآپ كے والد صاحب کی اتنی کم تنخواہ مقررنہیں کرنی چاہیےتھی، لیکن جب آپ کے والد صاحب نے زندگی میں اپنے حق کی تلافی کا مطالبہ نہیں کیا اور اپنی رضامندی سے کم تنخواہ پر ہی امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے تو اب ان کی وفات کے بعد مسجد کی انتظامیہ کے ذمہ اس حق کی تلافی لازم نہیں، البتہ .اگر امام صاحب کے ورثاء مالی اعتبار سے کمزور ہوں اور ان کے پاس اپنا ذاتی گھر نہ ہو اور مسجد کی انتظامیہ کے پاس مسجد کے فنڈ میں وافر رقم موجود ہو تو انتظامیہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ امام صاحب کی چھتیس (36)سالہ خدمت کے اعزازواکرام ان کے ورثاء کو مناسب قیمت کا ذاتی گھر یا کوئی پلاٹ خرید کر دے دے، نیز اس سلسلے میں کسی صاحب استطاعت شخص کو ترغیب دے کر بھی گھر یا پلاٹ دلوایا سکتا ہے، کیونکہ اتنا طویل عرصہ کسی بھی دنیوی شعبے میں ملازمت کرنے پر ملازم کو بڑی مقدار میں مختلف رقوم اور فنڈز دیے جاتے ہیں جو اس کے ورثاء کے کام آتے ہیں، لہذا مسجد کی انتظامیہ کا اخلاقی فريضہ ہے کہ وہ امام صاحب کے ورثاء کے ساتھ یہ تعاون ضرور کر یں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
27/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


