03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت طلاق یا خلع کا مطالبہ کب کرسکتی ہے؟
85366طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے خاندان میں ایک عورت ہے جس کی شادی ہوئی تقریباً سوا سال ہو رہے ہیں،اب صورت حال یہ ہے کہ عورت شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ،کسی معقول عذر سے یا غیر معقول عذر سے۔ پہلے بھی دو سے تین مرتبہ والد کے گھر جا چکی ہے ، لیکن سمجھابجھا کرہر دفعہ واپس بھیج دی گئی لیکن اب بالکل نہ جانے کی ٹھان لی ہے۔ عورت کے بھائیوں اور چنددیگر متعلقین نے جاکر اس عورت کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا، عورت کی طرف سے وکیل بن کر تو جواب ملا کہ سال اپنے باپ کے گھر بیٹھی رہے ،پھر بھی طلاق نہیں دوں گا۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد شوہر نے مطالبہ کیا کہ ساڑھےسات لاکھ (750,000) روپے ادا کریں گے تو طلاق دوں گا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مندرجہ ذیل چندا مور کا جواب مطلوب ہے:

  1. عورت کو طلاق یا خلع کے مطالبے کا حق کب حاصل ہوتا ہے؟
  2. کیا (بلا عذر والدین کے گھر بیٹھ جانے والی) عورت کو زور زبردستی پکڑ کر شوہر کے حوالے کر سکتے ہیں یاعورت اس معاملہ میں خود مختار ہے ؟
  3. کیا خلع میں شوہر کی طرف سے مال کا مطالبہ ہو سکتا ہے؟
  4. عورت کی طرف سے بدلِ خلع میں متعین کردہ مال کی شرط پرہی طلاق دینا شوہر پرضروری ہےیاشوہراپنی مرضی سے جتنا چاہے بدلِ خلع کا مطالبہ کرسکتا ہے ؟
  5. جو اخراجات ہوئے شادی میں اور شادی کے بعد سوا سالہ دورانیہ میں (کھانے ،پینے،پہننے،علاج و معالجہ، عورت کے رشتہ داروں کی ضیافت و غیره)کیاشوہر کی طرف سےان اخراجات کا مطالبہ درست ہے ؟
  6. شوہر کا مذکورہ رقم کا مطالبہ کس حد تک درست ہے ؟ (750,000 روپے)

براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرمیاں بیوی کے درمیان باہم ایسی  ناچاقیاں ہوں جن کی وجہ  سے اکٹھے رہنا مشکل ہواور باہم اتفاق کی کوئی صورت نہ ہو ، یا ایک ساتھ رہنے میں اللہ جل شانہ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل ممکن نظر نہ آئےتواس بنیاد پر عورت طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے،لیکن طلاق یا خلع دینے کااختیار عورت کے پاس نہیں ہے، بلکہ یہ اختیار مرد کا ہے کہ وہ طلاق یا خلع دے یا نہ دے۔یاد رہے کہ بلا وجہ یا معمولی رنجشوں پر طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورتوں پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے،ایک حدیث کے مطابق ایسی  عورت پر جنت کی خوشبو  حرام  ہے،یعنی جنت میں داخل ہونا تو دور کی بات ہے،جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گی۔

حوالہ جات

 [البقرة: 229]

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229)

تفسیر القرطبی:(139/3):

فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قوله تعالى: (فإن خفتم ألا يقيما) أي على أن لا يقيما. (حدود الله) أي فيما يجب عليهما من حسن الصحبة وجمل العشرة.

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (7/ 316)

عن ثوبان عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال :" أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة".

الدر المختار (3/ 441)

 (ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)

(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.

  محمد حمزہ سلیمان

     دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

      ۰۸.جمادی الاولیٰ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب