| 86699 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
موجودہ زمانے میں مخلوط تعلیمی نظام عام ہے، اور غیر مخلوط ادارے بہت کم دستیاب ہیں، جن کا تعلیمی معیار بھی عموماً کمزور ہوتا ہے۔مرد و عورت کے لیے مخلوط تعلیمی نظام میں تعلیم حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر عورت مکمل پردے اور حجاب کے ساتھ مخلوط تعلیمی نظام میں تعلیم حاصل کرے تو کیا یہ جائز ہوگا؟موجودہ دور میں مرد و عورت کے لیے عصری تعلیم حاصل کرنا کس درجے تک ضروری ہے؟ خاص طور پر یہ واضح فرمائیں کہ کیا عورت کے لیے مرد کی طرح مکمل عصری تعلیم (جیسے گریجویشن) حاصل کرنا ضروری یا مناسب ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عصری علوم حاصل کرنا بھی معاشرے کے قیام کے لئے نہ صرف ضروری ہے،بلکہ معاشرے کا قوا م اس کے بغیر مشکل ہے،لہذا ہر وہ علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے جس سے ترقی اور ضروریات زندگی کا قوام وابستہ ہو ،جیسے کے علم طب،علم صنعت،علم زراعت اور آج کے دور میں ٹیکنالوجی وغیرہ ۔ان علوم کا حصول نا صرف ضروری ہے ،بلکہ ان میں اختصاص پیدا کرنا بھی مسلم معاشرے کی ترقی کے لئے بے حد ضروری ہے۔
اس تمہید کے بعد یہ بات واضح رہےکہ عورت کے لئے شرعی امور کا لحاظ رکھتے ہوئے ضروری تعلیم حاصل کرنا جائز ہے،بلکہ پسندیدہ بھی ہے اور ضرورت کے مطابق جیسے مناسب ہو عورت مکمل عصری تعلیم حاصل کرسکتی ہے۔عورت کے لئے زندگی کے ان شعبوں کی تعلیم حاصل کرنا چاہئے جن کی عورتوں کو زیادہ ضرورت ہو ،جیسے میڈیکل سے متعلق تعلیم کا حاصل کرنا وغیرہ۔
عورت کو چاہئے کہ جس حد تک ممکن ہو تعلیم عورتوں کے لئے مخصوص سکول، کالج اور یونیورسٹی سے حاصل کریں،لیکن اگر تعلیمی دورانیہ میں ایسا کوئی شعبہ ہو کہ جس سے متعلق اُس علاقہ میں لڑکیوں کے لیے علیحدہ کوئی کالج یا یونیورسٹی وغیرہ نہ ہو اور وہ تعلیم بھی ناگزیر ہوتو ایسی مجبوری کی صورت میں مخلوط نظام میں مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا جائز ہوگا:
- عورت مکمل شرعی پردہ میں جائے۔
- خوشبو لگا کر اور مزین ہوکر نہ جائے ۔
- کلاس میں نشست لڑکیوں کے ساتھ رکھے، لڑکوں کے ساتھ بیٹھنا جائز نہیں۔ کسی بھی غیر محرم خواہ ٹیچر ہوں یا طالب علم کے ساتھ اکیلے کمرے میں نہ رکیں اور نہ ہی اکیلے ملاقات کرے۔
- سبق کی دہرائی وغیرہ لڑکیوں کے ساتھ کرے۔
- شدید مجبوری کے تحت کبھی کسی غیر محرم خواہ ٹیچر ہوں یا طالبِ علم سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائےتو بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت بات کرے،بلاضرورت بات کرنا یا ضرورت سے زیادہ بات کرنا جائز نہیں، ہنسی مزاح کرنے ،اس کا جواب دینے اور ہاتھ ملانے کی کوئی گنجائش نہیں، سخت گناہ ہے۔
حوالہ جات
(تفسير ابن كثير :ج: 6 / ص: 44):
( وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ )
"فقوله تعالى: {وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن} أي: عما حرم الله عليهن من النظر إلى غير أزواجهن. ولهذا ذهب [كثير من العلماء] إلى أنه لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى الأجانب بشهوة، ولا بغير شهوة أصلا. واحتج كثير منهم بما رواه أبو داود والترمذي، من حديث الزهري، عن نبهان -مولى أم سلمة -أنه حدثه: أن أم سلمة حدثته: أنها كانت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وميمونة، قالت: فبينما نحن عنده أقبل ابن أم مكتوم، فدخل عليه، وذلك بعدما أمرنا بالحجاب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "احتجبا منه" فقلت: يا رسول الله، أليس هو أعمى لا يبصرنا ولا يعرفنا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أو عمياوان أنتما؟ ألستما تبصرانه" .
ثم قال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح.
وذهب آخرون من العلماء إلى جواز نظرهن إلى الأجانب بغير شهوة، كما ثبت في الصحيح: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل ينظر إلى الحبشة وهم يلعبون بحرابهم يوم العيد في المسجد، وعائشة أم المؤمنين تنظر إليهم من ورائه، وهو يسترها منهم حتى ملت، ورجعت."
(صحيح البخاري،باب:هل يجعل للنساءيوماعلى حدةفي العلم؟،ج1،ص:32):
عن أبي سعيد الخدري قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن.
(الفتاوى الهندية،ج5ص:377):
طلب العلم فريضة بقدر الشرائع وما يحتاج إليه لأمرلابدمنه من أحكام الوضوءوالصلاة وسائر الشرائع ولأمور معاشه وما وراء ذالك ليس بفرض فإن تعلمها فهو أفضل وإن تركها فلا إثم عليه
(رد المحتار: ج: 1 ، ص: 101):
"قال في تبيين المحارم : وأما فرض الكفاية من العلم ، فهو كل علم لا يستغنى عنه في قوام أمور الدنيا كالطب، والحساب ،والنحو، واللغة، والكلام."
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق :ج: 3 / ص: 72):
"ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها ؛ لأن ذلك ليس بصحيح،فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ،ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ،ولا تمطيطها،ولا تليينها، وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن،وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة."
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
28/ رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


