| 86105 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
سوال:اگر شوہر اپنی بیوی کو اسکے والدین کی خدمت سے روکے جو اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہو، جبکہ اس کی اپنی بہن اپنے والدین کے پڑوس میں ہی رہتی ہو تو شرعاً ایسا کرنا درست ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں شوہرکوچاہیےکہ اس معاملہ میں زیادہ سختی نہ کرے،اگربیوی کےوالدین کوالگ سےخدمت کی ضرورت ہےاوراس خدمت کی وجہ سےشوہرکی خدمت میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی ہوتومنع کرنامناسب نہیں،شوہرکااخلاقی فرض بنتاہےکہ بیوی کواس کےوالدین کی خدمت سےمنع نہ کرے۔
واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ قاعدوں اور ضابطوں کے بجائےرابطےاور اخلاقیات کی بنیاد پر نبھایا جائے تو یہ رشتہ کامیاب رہتا ہے،ورنہ یہ ناکام ہوجاتاہےاور لڑائی جھگڑےتک نوبت آجاتی ہے،اس سےحتی الامکان بچنےکی کوشش کرنی چاہیے۔
موجودہ صورت میں بیوی کو چاہیےکہ اپنےوالدین کی خدمت کےساتھ ساتھ شوہرکی خدمت میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ کرے،کیونکہ شوہرکی اطاعت سےمتعلق احادیث میں بہت سخت تاکید آئی ہے،تاکہ شوہربھی خوش رہےاور والدین کی خدمت بھی ساتھ ساتھ ہوتی رہے۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
27/جمادی الثانیہ 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


