03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی بھاگی یااس کارشتہ کروایااور میں نےلڑکےیااس کےبھائیوں کونہ ماراتو مجھ پربیوی طلاق
85822طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام علیکم!میری بھتیجی نے تقریبا 25جون کو اپنےکزن سےخفیہ نکاح کرلیاتھا،اس کےبعدوہ اس لڑکےکےگھر چلی گئی،ان کو کہاکہ میں اپناسب کچھ چھوڑ کرآگئی ہوں،میں واپس اپنےگھر نہیں جاؤنگی ،لڑکےوالوں نےکہاکہ نہیں، ہم آپ کو ایسےنہیں رکھیں گے،بلکہ ہم باقاعدہ آپ کا رشتہ مانگ کراوراچھےطریقےسےبیاہ کرلائیں گے۔

اس کےبعدانہوں نےمیری بھتیجی کواپنےگھر بھیج دیا،اس بات پر میرااورمیرےبھائی کاآپس میں جھگڑاشروع ہوا،میں نےاپنےبھائی کوفون کرکےبتادیاکہ اگرآپ نےیادیگررشتہ داروں نےیہ لڑکی ان کو دی یایہ لڑکی اس لڑکےکےساتھ خود بھاگ کرچلی گئی، تومیرےاوپربیوی طلاق،میں خودماروں یاکسی دوسرےسےمرواؤں،میں ان کونہیں چھوڑونگااورمارنےسےمرادلڑکااوربھائیوں کومارناہے،لیکن وقت کاتعین نہیں ہے،شرط یہ ہےکہ لڑکایااس کےبھائیوں کومارنا ہے،یہ الفاظ میں نےکئی بارکہےہیں،لڑکی نےخودبھاگ کراس لڑکےسےنکاح کروادیا۔یہ الفاظ میں نےجولائی میں کہےہیں اورلڑکی نومبر کی 9تاریخ کودوبارہ بھاگی ،نکاح خفیہ طورپر 20جون کا پڑھایاہواہے،جناب مفتی صاحب میرےبارےمیں کیاحکم ہے؟

میں نےجوشرط یاقسم کھائی ہےیہ ہے:میں اس لڑکےکویااس کےبھائیوں کو نہ ماروں  تومجھ پربیوی طلاق ہے۔

تنقیح:سائل نےبھائی کو فون پریہ الفاظ کہےتھے:آپ نےیادیگررشتہ داروں نےلڑکی ان کودی یالڑکی خودبھاگ کرلڑکےکےساتھ چلی گئی تومیں اس لڑکےیالڑکےکےبھائیوں کومارونگا(خودقتل کرونگایاکسی سےکرواونگا)نہ ماراتومجھ پر بیوی طلاق ہے۔

تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ الگ سےقسم کےالفاظ نہیں کہے،بلکہ صرف  طلاق کو ہی معلق کیاگیاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصل مسئلہ کےجواب سےپہلےضروری ہےکہ جو نکاح ہواہے،شرعی اعتبارسےاس کاحکم بھی ذکرکیاجائے،اس کےبعد اصل مسئلہ کاجواب دیاجائےگا:

مسئلہ یہ ہےکہ عاقلہ بالغہ لڑکی ولی(والدوغیرہ)کی اجازت کےبغیراگرغیرکفو(لڑکالڑکی ہم پلہ نہ ہوں ) میں نکاح کرلےتووہ نکاح شرعامنعقدنہیں ہوتا،ہاں اگرلڑکی نےکفومیں نکاح کیاہوتووہ نکاح شرعابھی منعقدشمارہوتاہےاورمعتبرہوتاہے۔

اورکفو کاشرعا مطلب یہ ہے کہ لڑکا  دینداری ، نسب، پیشہ  اور مال  میں لڑ کی کے ہم پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو۔

سوال کےمطابق لڑکی نےخفیہ نکاح کیاہےتواگرباقاعدہ نکاح ہوگیاتھا (نکاح کی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں مہرمتعین کرکےایجاب وقبول کیاگیاتھا) توشرعایہ نکاح منعقدشمارہوگا،چونکہ لڑکا کزن ہےاورعام طورپر خاندان کےافراد(خاص طورپر سگےبھائی کی اولاد) شرعی اعتبارسےہم پلہ (کفو) ہی ہوتےہیں ،لہذااولیاء اگرراضی نہ بھی ہوں توبھی یہ نکاح شرعامنعقد سمجھاجائےگا،لہذا دونوں طرف اولیاء کوچاہیےکہ زیادہ سختی نہ کریں ،جب لڑکا بھی راضی ہےاور لڑکی بھی رشتہ پرراضی ہےتوسابقہ نکاح کوہی برقراررکھاجائے،ایسی صورت میں   آپ کی طرف سےاس طرح کی شرط لگاناکہ اگررشتہ دیاتو میں جان سےماردونگا وغیرہ  یہ الفاظ  قطعادرست نہیں تھے ،لڑکالڑکی غلطی پراس وقت تک تھے،جب تک نکاح نہیں ہوااورناجائزتعلقات تھے،جب نکاح ہوگیاہےتواب وہ شرعا ساتھ ر ہ سکتےہیں،ہاں ایسی صورت میں بھی بہترپھربھی یہی ہےکہ والدین کی طرف سےباقاعدہ رخصتی وغیرہ کردی جائے،اس کےبعد ساتھ رہیں۔

جہاں تک طلاق  کی بات ہےتو واضح رہےکہ لڑکےکورشتہ دینےیالڑکی کےبھاگ کررشتہ کرنےکی صورت میں طلاق کومعلق کیاگیاہےکہ اگر لڑکےیااس کےبھائیوں کونہ ماراتومجھ پر ایک طلاق (مارنےکی کوئی مدت متعین نہیں کی گئی) ،موجودہ صورت میں لڑکی بھاگ کررشتہ کرچکی ہےاورنکاح کےبعد سائل کوکسی قتل کی شرعااجازت نہیں،لہذاوہ  لڑکےیااس کےبھائیوں کو کسی صورت میں نہیں مارسکتا،تاہم  جب سائل کی طرف سےنہ مارنایقینی ہوجائےگا(لڑکااوراس کے بھائی سب فوت ہوجائیں،یاسائل  کاانتقال ہوجائے)تواس وقت سائل کی بیوی اگرزندہ تھی تواس  پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اورطلاق رجعی کی عدت کےاندردوبارہ رجوع کیاجاسکتاہے۔ فی الوقت سائل کاموجودہ نکاح شرعابرقرارہے۔

حوالہ جات

"الهداية في شرح بداية المبتدي"1/ 243:باب الأيمان في الطلاق وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق۔

"الهداية"1 / 254: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى : { فأمسكوهن بمعروف } [ البقرة : 231 ] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمي إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة۔۔۔

"رد المحتار "11 / 461: باب الرجعة هي استدامة الملك القائم ) بلا عوض ما دامت ( في العدة )۔

شرعاکسی کو قتل کرناویسےہی بہت بڑاگناہ ہےاوراس پروعیدیں بھی بہت سخت ہیں،پھرجبکہ موجودہ صورت میں   لڑکالڑکی نکاح بھی کرچکےہیں،اس کےبعدقتل کااقدام کرناشرعی،اخلاقی،قانونی ہراعتبارسےناجائزہوگا،دونوں طرف اپنےہی خاندان کے لوگ ہیں،قتل کےاقدام سےمستقبل میں آپس میں لڑائی جھگڑےاورفسادکی فضاء قائم ہوگی،اس سےبچنا لازم ہوگا۔

"سورہ بنی اسرائؕیل " آیت نمبر33:ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا يسرف في القتل إنه كان منصورا۔۔

"تفسير ابن كثير"5 / 73:

يقول تعالى ناهيا عن قتل النفس بغير حق شرعي، كما ثبت في الصحيحين؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والزاني المحصن، والتارك لدينه المفارق للجماعة" ۔

"تفسير ابن كثير" 3 / 92:

وفي السنن: "لزوال الدنيا أهون عند الله من قتل مسلم " .۔۔۔۔۔( { كتبنا على بني إسرائيل } أي: شرعنا لهم وأعلمناهم { أنه من قتل نفسا بغير نفس أو فساد في الأرض فكأنما قتل الناس جميعا ومن أحياها فكأنما أحيا الناس جميعا } أي: ومن قتل نفسا بغير سبب من قصاص، أو فساد في الأرض، واستحل قتلها بلا سبب ولا جناية، فكأنما قتل الناس جميعا؛ لأنه لا فرق عنده بين نفس ونفس۔

" مسند أحمد 2 / 201:

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن فراس عن الشعبي عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم انه قال :الكبائر الإشراك بالله عز و جل وعقوق الوالدين أو قتل النفس شعبة الشاك واليمين الغموس ۔إسناده صحيح على شرط الشيخين۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

05/جمادی الثانیہ 1446 ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب