03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مہر میں طے شدہ سونے کے بدلے اس کی قیمت ادا کرنے کا حکم
87283نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میں نے اپنی بیوی کا مہر ادا کرنا ہے، اور میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں۔ طلاق کی تاریخ پندرہ مارچ 2025 ہے، جو کہ ہفتے کا دن تھا۔ ان کا حقیقی مہر اکیاون ہزار روپے تھا، جو زیورات کی صورت میں ادا کرنا طے پایا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ مہر زیورات خرید کر ادا کریں، یا انہیں نقد رقم دے دیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ  مسئولہ  میں مہر میں طے شدہ سونے کے بجائے اس کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

(ردالمحتار :5/152)

 (وجاز) (التصرف في الثمن) بهبة أو بيع أو غيرهما لو عينا أي مشارا إليه ولو دينا فالتصرف فيه تمليك ممن عليه الدين ولو بعوض ولا يجوز من غيره ابن مالك (قبل قبضه) سواء (تعين بالتعيين)كمكيل (أو لا) كنقود فلو باع إبلا بدراهم أو بكر بر جاز أخذ بدلهما شيئا آخر (وكذا الحكم في كل دين قبل قبضه كمهر(قوله: ولو بعوض) كأن اشترى البائع من المشتري شيئا بالثمن الذي له عليه...........(قوله: وكذا الحكم في كل دين) أي يجوز التصرف فيه قبل قبضه، لكن بشرط أن يكون تمليكا ممن عليه بعوض أو بدونه كما علمت........(قوله: كمهر إلخ) وكذا القرض.

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

24 ٖشوال 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب