| 87132 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
بابا کی وراثت کے حصے میں سے میری بہنوں کے لیے پلاٹس لیے ہیں ، ان کی زکوۃ کون دے گا ؟بہنیں تو کافی بار بولنے کے بعد بھی پلاٹوں کا قبضہ لے نہیں رہیں ،کیاکرناچاہیے؟
تنقیح:سائل نے فون پر بتایا کہ والد صاحب کی وراثت تقسیم ہونے کے بعد جو رقم بہنوں کے حصے میں آئی اس سے سائل نے بہنوں کی اجازت سے ان کے لیے پلاٹ لیے اور خریدتے وقت بہنوں کی پلاٹوں کو آگے بیچنے کی نیت نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ پلاٹ آگے بیچنے کی نیت سے نہیں لیے گئے ،اس لیے پلاٹوں پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 218):
(قوله وتشترط نية التجارة) لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه، وذلك هو نية التجارة،
العناية شرح الهداية (2/ 169):
والحاصل أن ما يدخل في ملك الرجل على نوعين: نوع يدخل بغير صنعه كالإرث. ونوع يدخل بصنعه وهو أيضا على نوعين: ببدل مالي كالشراء والإجارة وغيره كالمهر وبدل الخلع وبدل الصلح عن دم العمد، وبغير بدل كالهبة والصدقة والوصية، فالذي يدخل بغير صنعه لا يعتبر فيه نية التجارة مجردة بالاتفاق، والذي يدخل ببدل مالي يعتبر فيه نية التجارة بالاتفاق، والذي يدخل ببدل غير مالي أو بغير بدل فقد اختلف فيه على ما ذكرنا.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
8/رمضان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


