| 85363 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ بازارمیں بڑی اسکرین خریدتے ہیں،پھروہ اسکرین کسی کمپنی یاشخص کوکرایہ پردیتے ہیں،مثلا10000 روپے ماہانہ کرایہ پر اوریہ معاہدہ کبھی 6ماہ کا کبھی سال کاہوتاہے،معاہدہ ختم ہونے کے بعد مالک اسکرین کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اسکرین اس سے واپس لے لے،اس کوفروخت کردے یااس کومزیدوقت کےلئے کرایہ پردیدے،پھروہ کمپنی یاشخص اس اسکرین کے ذریعہ لوگوں کے کاروباروغیرہ کی تشہیرکرتے ہیں،معلوم یہ کرناہے کہ کیااس طرح اسکرین کرایہ پردیناجائز ہے یانہیں؟پھراس شخص کاکاروبارکی تشہیرکرناجائز ہے یانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کرایہ اورمدت طے کرکے اسکرین کرایہ پردیناجائزہے،کرایہ پرلینے والے کے لیے جائزچیزکی تشہیرجائزہے اورناجائزچیزکی تشہیرجیسے شراب،جواخانہ وغیرہ کی تشہیرجائز نہیں،اگرکرایہ پردینے والے کوکرایہ پردیتے وقت معلوم ہوجائے کہ یہ اس اسکرین کوصرف ناجائزکاروبارکی تشہیرکےلئے استعمال کرے گا تواس کواسکرین کرایہ پردینا جائز نہیں۔
حوالہ جات
۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۸/جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


