| 87400 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک عورت کی ایک شخص سے شادی ہوئی اور ایک بچی بھی پیدا ہوئی، اس کے بعد وہ عورت گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی، زیور اپنے ساتھ لے گئی اور جہیز شوہر کے گھر پڑا رہنے دیا، اس عورت نے عدالت سے شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ خلع لے کسی اور شخص سے شادی کر لی،بیٹی اور اس کے والد کے درمیان کوئی رابطہ نہیں رہا، یہاں تک کہ تیس سال گزر گئے، بچی کی شادی ہوئی اور باپ فوت ہو گیا، بچی نے صرف وفات کے وقت اپنے والد کا منہ دیکھا، باپ کے پاس ایک مکان تھا جو اس نے زندگی میں اپنے بھائی کو دے کر اس کا قبضہ بھی اس کو دے دیا تھا، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیٹی اپنے والد کی وراثت میں سے حق دار ہو گی؟مرحوم کے ورثاء میں ان کی چار بہنیں اور تین بھائی بھی ہیں، نیز ہروارث کا کتنا حصہ ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث ایک شرعی حق ہے، جس کامدارشریعت نےبالترتیب نسبی رشتہ داری پررکھا ہے، جس شخص کی نسبی رشتہ داری وفات پانے والے شخص سے ثابت ہو تو وہ شریعت کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق اپنے حصے کا حق دار ہو گا، خواہ زندگی میں ان کی آپس میں ایک بار بھی ملاقات نہ ہوئی ہو، لہذا مذکورہ صورت میں بیٹی اپنے شرعی حصہ کے مطابق اپنے والد کے ترکہ میں حق دار ہو گی، اس لیےصورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں نقدی اور چھوٹا بڑا جو سازو سامان چھوڑا ہے اور مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب الادء ہو وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے تجہیزوتکفین کے اخراجات نکالنے، مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں آدھا حصہ مرحوم کی بیٹی کا اور بقیہ ترکہ مرحوم کے بھائی اور بہنوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے گا، لہذا کل ترکہ کوو سولہ حصوں میں تقسیم کر کے آٹھ مرحوم کی بیٹی کو اور دو دو حصے مرحوم کے دونوں بھائی کو اور ایک ایک حصہ مرحوم کی ہر بہن کو دے دیا جائے، تقسیم میراث کا نقشہ درج ذیل ہے:
|
نمبر شمار |
وارث |
عددی حصہ |
فيصدی حصہ |
|
1 |
بیٹی |
8 |
50% |
|
2 |
بھائی |
2 |
12.5% |
|
3 |
بھائی |
2 |
12.5% |
|
4 |
بہن |
1 |
6.25% |
|
5 |
بہن |
1 |
6.25% |
|
6 |
بہن |
1 |
6.25% |
|
7 |
بہن |
1 |
6.25% |
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]:
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ.
السراجية في الميراث (1/ 29) مكتبة المدينة، كراتشي:
العصبات النسبية ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغيره، وعصبة مع غيره، أما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف: جزء الميت، وأصله، وجزء أبيه، وجزء جده، الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي: البنون، ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصله أي: الأب، ثم الجد أي: أب الأب وإن علا، ثم جزء أبيه أي: الإخوة، ثم بنوهم وإن سفلوا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
2/ شوال المکرم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


