03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وارث کی موت کے بعد حصہ لینے کا حکم
85771میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مسمیٰ خلیل شاہ کا انتقال ہوا۔بوقت انتقال ان کا ایک بیٹا مسمیٰ مقبول شاہ اور ایک بیٹی مسماۃ خدیجہ موجود تھے۔ ان کی جائیداد میں  دو زمینیں تھیں،ایک زرعی اور دوسری غیر زرعی ۔زرعی زمین  اس طرح سے تقسیم کی گئی کہ دو حصے بھائی اور ایک حصہ بہن کو دیا گیا۔ غیر زرعی زمین جس کو علاقہ ہذا میں کاپ کے نام سے جاناجاتا ہے، بھائی کے زیر تصرف و قبضہ رہی۔بہن مسماۃ خدیجہ  نےاس زمین میں اپنے حصہ کو طلب نہیں کیا۔ پھر  جب مسمیٰ مقبول شاہ کا انتقال ہوا تو اس کی بہن مسماۃ خدیجہ بھی ورثہ میں شامل تھی۔ علاقہ کی برادری جرگہ نے مقبول شاہ کی وراثت اس کی دو بیٹیوں اور ایک بہن میں تقسیم کرتے ہوئےبہن کو ایک تہائی کا حقدار قرار دیا، پیش نظر اس بات  کے کہ مسماۃ خدیجہ نے اپنی زندگی میں بھائی مسمیٰ مقبول شاہ سے غیر زرعی زمین  طلب نہیں کی تھی۔ پھر جب دونوں بہن بھائی کا انتقال ہوا ،تو  عرصہ دراز کےبعد مسماۃ خدیجہ کے ورثہ  نے خدیجہ کا غیر زرعی زمین میں حصہ طلب کیا، جوکہ خدیجہ نے اپنی زندگی میں طلب نہیں کیا تھا۔درج بالا صورت میں خدیجہ مرحومہ کے ورثہ وراثت کے اس حصہ  کو طلب کرنے کے حقدار ہوں گے یا نہیں؟

سائل کی طرف سے تنقیح سے معلوم ہوا کہ  مقبول شاہ کی بوقت انتقال صرف دو بیٹیاں اور اور ایک بہن تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت کا اصول ہے کہ اگر کسی  وارث کا مورث کے وفات کے بعد انتقال ہوجائےتو اس کا وراثت میں حصہ ختم نہیں ہوتا۔صورت مسئولہ میں  مسماۃ خدیجہ کا اپنے والد   خلیل شاہ  کی  کل جائیداد میں حصہ  بنتاتھا،جس میں زرعی زمین بھی تھی ،لیکن بھائی  مسمیٰ مقبول شاہ نے اپنی زندگی میں اس میں سے حصہ نہیں دیا،اس لیے  مسماۃ خدیجہ کاوہ حصہ ابھی تک بدستور باقی ہے،لہذا مسماۃ خدیجہ کی وفات کے بعد اس  کے ورثہ کا یہ حصہ طلب کرنا شرعاً درست ہے۔

حوالہ جات

‌‌الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.(تكملة حاشية ابن عابدين:8/116)

وفى حديث ابن مسعود بيان ما عليه جماعة العلماء إلا ما شذ فى أن الأخوات عصبة للبنات يرثون ما فضل عن البنات. مثال ذلك: رجل توفى عن ابنة وأخت فللابنة النصف، وللأخت ما بقى، وكذلك إن توفى عن بنتين كان لهما الثلثان وللأخت الثلث الباقى.

 (شرح صحيح البخاري لابن بطال :8/ 355)

ثم شرع في العصبة مع غيره فقال (ومع غيره ‌الأخوات ‌مع ‌البنات) أو بنات الابن لقول الفرضيين اجعلوا الأخوات مع البنات عصبة والمراد من الجمعين هنا الجنس..... ثم شرع في

العصبة مع غيره فقال (ومع غيره الأخوات مع البنات) أو بنات الابن لقول الفرضيين اجعلوا

‌الأخوات ‌مع ‌البنات عصبة .والمراد من الجمعين هنا الجنس .

(الدر المختار مع رد المحتار:6/776)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

5/جمادی الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب