| 87473 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میری والدہ نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا تھا، جب وہ تقریباً 1.5 سال کی تھی۔ والدہ کے مطابق اُس لڑکی نے 2 مرتبہ مکمل سیراب ہو کر دودھ پیا، اور 2 یا 3 مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ پیا، سیراب نہیں ہوئی۔ اب میں اُس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا شرعاً اس لڑکی سے میرا نکاح جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کسی بچے نے ابتدائی دو سال کے دوران کسی عورت کا دودھ ایک مرتبہ بھی پی لیا، چاہے وہ مقدار میں کم ہو یا زیادہ تو رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس لڑکی کو آپ کی والدہ نے دودھ پلایا ہے، وہ آپ کی رضاعی (دودھ شریک) بہن ہے ، اس سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں۔
حوالہ جات
«المبسوط» للسرخسي (5/ 134):
وحجتنا قوله تعالى: {وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم} [النساء: 23] أثبت الحرمة بفعل الإرضاع فاشتراط العدد فيه يكون زيادة على النص، ومثله لا يثبت بخبر الواحد. وفي حديث علي - رحمه الله تعالى - أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الرضاع قليله وكثيره سواء» يعني في إيجاب الحرمة، ولأن هذا سبب من أسباب التحريم، فلا يشترط فيه العدد كالوطء
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
14/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


