| 87511 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
ایک بالغ لڑکی جس کا ولی اس کا والد ہے اوراس کی ماہانہ آمدن آٹھ سے دس لاکھ روپےہےجبکہ بالغ لڑکا جس کی ماہانہ آمدن پچاس ہزار روپے ہے اورساٹھ سے ستر لاکھ مالیت کی زمین بھی ہے۔کیا لڑکی ،لڑکا آپس میں ہم پلہ ہیں؟کیادونوں ایک دوسرے کے کفو ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مال داری میں کفو کا مطلب یہ ہے کہ عرف کے مطابق لڑکا ، لڑکی کے مہر معجل جتنی مقدار ادا کی جاتی ہو اتنی کی ادائیگی پر قادر ہواور اس کا نان ونفقہ (خرچہ وغیرہ) یومیہ یا ماہانہ بنیادوں پر اٹھاسکتا ہو۔
صورتِ مسئولہ میں جب کہ لڑکے کی ماہانہ آمدن پچاس ہزار روپے ہے، جو عرفاً نان و نفقہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے اور اگرمہرِ معجل کی معروف مقدار کی فوری ادائیگی فی الحال ممکن نہ بھی ہو، تو بھی وہ قرض وغیرہ لے کر اس کی ادائیگی پر قدرت حاصل کر سکتا ہےاور اس کو بعد میں کماکر ادا کرسکتا ہے ،لہذا ایسی صورت میں یہ آمدن مالی استطاعت کے لیے کافی شمار ہوگی، اور اس بنیاد پر لڑکا اس لڑکی کا مالی اعتبار سے کفو شمار ہوگا۔
البتہ نکاح جیسا خاندانی نظام ولی اور سرپرست کی اجازت اور سرپرستی ہی میں سرانجام دینا چاہئے ،اس لیے کہ نکاح کے معاملے میں بعد میں پیدا ہونے والے بہت سارے مسائل اور پیچیدگیوں کا تدارک یا حل اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 90):
«(قوله بأن يقدر على المعجل إلخ) أي على ما تعارفوا تعجيله من المهر، وإن كان كله حالا فتح فلا تشترط القدرة على الكل، ولا أن يساويها في الغنى في ظاهر الرواية وهو الصحيح زيلعي،»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 6):
«ومقتضاه الكراهة أيضا عند عدم ملك المهر والنفقة لأنهما حق عبد أيضا، وإن خاف الزنا لكن يأتي أنه يندب الاستدانة له قال في البحر: فإن الله ضامن له الأداء فلا يخاف الفقر إذا كان من نيته التحصين والتعفف. اهـ. ومقتضاه أنه يجب إذا خاف الزنا، وإن لم يملك المهر إذا قدر على استدانته وهذا مناف للاشتراط المذكور إلا أن يقال الشرط ملك كل من المهر والنفقة ولو بالاستدانة.»
«موسوعة جمال عبد الناصر في الفقه الإسلامي» (7/ 133):
«ولقد كان فى حاشية ابن عابدين أنه يندب الاستدانة له.
ويكون حينئذ معنى القدرة على المهر والنفقة ملك كل من المهر والنفقة ولو بالاستدانة اذا كانت له جهة وفاء أو مع ظنه القدرة على الوفاء»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 319):
«والمعتبر فيه القدرة على مهر مثلها، والنفقة، ولا تعتبر الزيادة على ذلك حتى أن الزوج إذا كان قادرا على مهر مثلها، ونفقتها يكون كفئا لها، وإن كان لا يساويها في المال هكذا روي عن أبي حنيفة وأبي يوسف، ومحمد في ظاهر الروايات
وذكر في غير رواية الأصول أن تساويهما في الغنى شرط تحقق الكفاءة في قول أبي حنيفة، ومحمد خلافا لأبي يوسف؛ لأن التفاخر يقع في الغنى عادة، والصحيح هو الأول؛ لأن الغنى لا ثبات له؛ لأن المال غاد ورائح، فلا تعتبر المساواة في الغنى.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


