03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدصاحب کی زندگی میں دوبیٹوں نےذاتی رقم تعمیرپرخرچ کی تووراثت کاکیاحکم ہوگا؟
85221میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال: السلام علیکم !میں زوہیب حسن صدیقی آپ سے وراثتی مسئلہ پر راہنمائی کا طلبگار ہوں۔

ایک عدد مکان جو والد صاحب اور والدہ کی  حیات میں انہوں نے 2004 میں ملیر کے علاقے میں گراؤنڈ پلس ون تعمیر کیا اور والدہ کے نام پر کر دیا۔ والدہ کا انتقال 2009 میں ہوا اور والد صاحب کا 2022 میں۔

انتقال سے دو سال قبل دو بیٹوں زوہیب حسن اور وقاص حسن نے دوسری اور تیسری منزل والد صاحب کی اجازت اور رضامندی سے اپنے ذاتی وسائل سے تعمیر کروائی اور اس سے ہونے والی کرایہ کی آمدنی کو والد صاحب کے لئے وقف کردیا۔ الحمدللہ والد صاحب نہ صرف اس عمل پر خوش تھے،بلکہ انہوں نے اس بات کا یعنی دوسری اور تیسری منزل کی تعمیر ،اس پر خرچ ہونے والابھائیوں کے سرمایہ کااعتراف اور اس کی ملکیت سے انکارکااظہاراور وضاحت انہوں نے تمام ورثہ کے سامنے بھی کی۔والد صاحب کا نام جہانگیر حسن صدیقی ہے اور والدہ کا نام ساجدہ بیگم۔

ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

والد صاحب نے ایک نکاح اور کیا جن سے کوئی اولاد نہیں اور وہ ابھی حیات ہیں ۔

مذکورہ بالا صورت حال کے تناظر میں آپ سے درج  ذیل سوالات کے جوابات اور شرعی رہنمائی درکار ہے:

دوسری اور تیسری منزل کس کی ملکیت ہوگی؟

 اگر سب کی مشترکہ وراثت ہے تو ماضی میں خرچ شدہ سرمایہ (تقریب 50 لاکھ)کس طرح ایڈجسٹ ہوگا آیا موجود ویلیو پریا کسی اور طرح؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔چونکہ بیٹوں  نےوالدکی زندگی میں والدکی اجازت سےدوسری اورتیسری منزل تعمیرکروائی ہے،اس لیےدوسری اورتیسری منزل بیٹوں کی ذاتی شمارہوگی،البتہ زمینی منزل اورپہلی منزل چونکہ وراثت میں تھی توان کی قیمت کووراثت میں تقسیم کیاجائےگا،اس اعتبارسےدوسری اورتیسری منزل زوہیب حسن اوروقاص حسن کی مشترکہ ہونگی یاجس بھائی نےجومنزل مکمل طورپرخودتعمیرکی ہوتووہ اسی کی ذاتی  شمارہوگی۔

دونوں صورتوں میں دوسری اورتیسری منزل وراثت میں تقسیم نہیں ہوگی ۔

موجودہ صورت میں جبکہ زمینی اورپہلی منزل وراثت میں ہےاوراس سےاوپرکی تعمیرات دو بھائیوں کی ذاتی ہیں توتقسیم کرنےکےلیےیہ طریقہ اختیار کیاجائےگاکہ اوپرکی دومنزلوں کی تعمیرکےبغیر صرف زمینی  اورپہلی منزل کی قیمت لگوائی جائےگی ،جوقیمت ہو وہ میراث میں تقسیم ہوگی ۔

تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ والدصاحب کی وراثت میں جتنامال ہے(موجودہ مکان کی دومنزلیں اوراس کےعلاوہ دیگر جائیدادا)اس کی قیمت لگائی جائےگی،جوقیمت ہواس کاآٹھواں حصہ والدکی دوسری بیوہ کاہوگا،باقی میراث آپ  تین بھائی اوردوبہنوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بھائیوں کو بہنوں کےمقابلےمیں دوگنا حصہ ملےگا۔

اگرفیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث میں سےآٹھواں حصہ12.5فیصد والدہ کوملےگا،تین بھائیوں میں سےہربھائی کو21.875فیصداوردوبہنوں  میں سےہربہن کو10.9375فیصدحصہ ملےگا۔ 

حوالہ جات

"تنقيح الفتاوى الحامدية155/2:

والأصل أن من بنى في دار غيره بناءوأنفق في ذلك بأمر صاحبه كان البناء لصاحب الدار وللباني أن يرجع على صاحب الدار بما أنفق ۔

سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ وعن ورثہ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ ویکون کالمستعیر ﴿الجواب﴾نعم کما صرح بذلک فی حاشیہ الاشباہ عند قولہ من بنی فی ارض غیرہ بامرہ فہو لمالکھا ومسئلة العمارة کثیر ذکرھا فی الفصول العمادیة ،و الفصوولین ،وغیرھا وعبارة االمحشی بعد قولہ ویکون کا لمستعیر فیکلف قلعھا متی شاء ۔

"مجمع الضمانات 8 / 67:

كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره  ولو بنى لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ۔

ولو بنى في دار غيره بأمره فالبناء لرب الأرض ، وقال بعضهم : البناء للباني ، ولو بنى بإذن رب الدار واستدلوا بما ذكر محمد أن من استعار من آخر دارا فبنى فيها بإذن ربها ، فالبناء للمستعير ، وهذا الاختلاف فيما أمر ولم يشترط الرجوع ، فأما لو شرط الرجوع بما أنفق ، فالبناء لرب الدار ، وعليه ما أنفق ألا يرى إلى ما ذكر محمد : أن من استأجر حماما ووكله ربه أن يرم ما استرم من الحمام ، ويحسب له ذلك من الأجر ففعل فالبناء لرب الحمام ، وللمستأجر على المؤجر ما أنفق ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

27/ربیع الثانی   1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب