03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرعی مفاسد پر مشتمل کھیلوں کی تشہر کا حکم
87460جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

لڑائی  والے کھیلوں (یو ایف سی فائٹ وغیرہ  )کی مارکیٹنگ کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ ان کھیلوںمیں کھلاڑیوں نے  ایسے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ،جو ستر پوشی نہیں کرتے  ، نیز  کچھ  کھیلوںمیں مرد کھلاڑیوں کے ساتھ لڑکیاں بھی ہوتی ہیں اور ان لڑکیوں کے کپڑے بھی چھوٹے ہوتے ہیں، اس کے علاوہ میوزک بھی ہوتا ہے۔  کچھ کھیلوںمیں حرام چیزوں کی پروموشن بھی کی جاتی ہے جیسے شراب اور  موویز وغیرہ ۔ تو کیا ایسے کھیلوں کی  مارکیٹنگ جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکور کھیلوں میں بہت سے شرعی مفاسد پائے جاتے  ہیں ، مثلاً  سترپوشی نہ ہونا ، لڑکیوں کا ناتمام کپڑے پہنے ہوئے موجود ہونا ، میوزک چلنا اور شراب وغیرہ کی پروموشن ، لہٰذا ایسے کھیلوں کو  جس طرح دیکھنا بھی حرام ہے،اسی طرح  ان کی تشہیر کرنا   بھی شرعاً نا جائز ہے؛ اس لیے کہ  ایسے کھیلوں  کی تشہیر کرنا گناہ کے کام میں معاونت ہو گا، اور اس سے کمائی کرنا بھی  ناجائزہو گا۔

حوالہ جات

القرآن الکریم(02/05):

{وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان}

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

14/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب