03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نانی کی میراث کاحکم
87418میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

       اگر  میں  اپنی  نانی کی میراث  کا یہ کیس جیت جاتا ہوں ،تو کیا  سگے بہن  بھائیوں کے ساتھ جو سوتیلے بہن  بھائی ہیں، ان کو بھی حصہ دینا ضروری ہے ؟

(تنقیح:سائل کی والدہ ابھی حیات ہیں اور نانی وفات پا چکی ہیں۔)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  صورت مسئولہ میں  میت(سائل کی نانی) کی حقیقی بیٹی(سائل کی والدہ ) ابھی حیات  ہیں، لہذا  بطور وارث ان کو جو بھی حصہ ملے گا ،وہی اس کی حقدار  ہیں۔ ان پر لازم نہیں کہ اپنی اولاد( خواہ حقیقی ہو یا سوتیلی) اس مال میں سے کسی کو  حصہ دیں،تاہم  اپنی دلی  رضامندی سے وہ کسی بھی فرد کو  ہدیہ وغیرہ کر سکتی ہیں۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية (3/ 22):

(وللإرث شروط ثلاثة) :أولها: ‌تحقق ‌موت ‌المورث أو إلحاقه بالموتى حكما كما في المفقود إذا حكم القاضي بموته أو تقديرا.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

08/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب