| 86181 | روزے کا بیان | نفلی روزے کا بیان |
سوال
کوئی منت کے روزے رکھے اور کوئی نفلی روزے رکھے،کس کو زیادہ ثواب ملتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منت ماننے کے مقابلے میں نفلی روزوں کااہتمام افضل ہے ،کیونکہ نفل میں کوئی دنیاوی مقصد نہیں ہوتا جبکہ منت میں دنیاوی مقاصد بھی ہوتے ہیں ۔تاہم جب منت مان چکاہوتو منت کے روزے پورے کرنا نفلی روزےرکھنے کی بنسبت زیادہ اجر اور ثواب کے باعث اور ضروری ہوگا ،کیونکہ اس میں ایک لازم شدہ ذمہ داری کی ادائیگی ہے ،جبکہ نفل درجہ میں واجب سے کم ہوتاہے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام مسلم فی" صحیحہ "(3/ 1261)(الحدیث رقم :1639)من حدیث ابن عمررضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم ،أنه نهى عن النذر،وقال: إنه لا يأتي بخير،وإنما يستخرج من البخيل.
قال العلامۃ عبد الکریم الخضیر رحمہ اللہ :وعلى كل حال المسألة التي أشار إليها ابن العربي في الواجب الموسع هم نظروا إلى المسألة من زاوية وهي أن الواجب أفضل من المندوب بلا شك.( شرح سنن الترمذي: 33/ 31)
قال العلامۃ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ :فالعمل الواجب أفضل من التطوع.( شرح الأربعين النووية للعثيمين:ص،375)
ارشاد احمدبن عبد القیوم
دار الافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
4 /رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ارشاد احمد بن عبدالقیوم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


