| 86073 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ وہ بھی مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے گھر اپنی والدہ کو رشتے کےلیے بھی بھیجا ہے۔ اللہ کی رحمت سے اچھا روزگار ہے۔ ایک گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہوں۔لیکن لڑکی کے والد اپنی کاسٹ کا نہ ہونے کی وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے، جبکہ لڑکی اپنے والد کو بتا چکی ہے کہ ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اب اس کے والد زبردستی کہیں اور اس کی شادی کروانا چاہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اگر لڑکی نے اس رشتے سے منع کیا تو وہ اس کی والدہ یعنی اپنی بیوی کو طلاق دے دیں گے۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں رہنمائی کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اولاداوروالدین کارشتہ بہت پاکیزہ ہے۔والد اپنی اولاد کےلیے زندگی بھر طرح طرح کی مصیبتیں جھیلتاہے، انسان پر سب سے زیادہ شفقت والدین ہی کی ہوتی ہے،لہذا اولاد کو بھی حتی الامکان والدین کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔نکاح کے معاملے میں بھی والدین اپنی اولاد کےلیے بہترین انتخاب کرتےہیں،لہذا اولادکو اس معاملہ میں والدین کی رائےکا پورااحترام کرنا چاہیے۔البتہ چونکہ نکاح ایک دن کی بات نہیں، عمربھر کی زندگی کافیصلہ ہے ، لہذا والدین کو بھی اپنی بیٹی کے نکاح کےلیے ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے جس سے نکاح کے بنیادی مقاصد حاصل ہوں۔کسی جگہ جبراًنکاح کردینے سے وہاں ہمیشہ کی ناچاقی کے خدشات ہوتے ہیں ،لہذااگر کفو کا مسئلہ نہ ہوتووالدین کو بچوں کی جائز خواہش کا پاس کرکے نکاح کرنا چاہیے۔
یہاں یہ بات بھی خوب ذہن نشین فرمالیں کہ والد کی اجازت کے بغیر بیٹی کےلیے غیرکفو(لڑکانسب، دینداری اور مال میں لڑکی کا ہم پلہ نہ ہوں) میں نکاح کرناجائز نہیں ہےاور خفیہ طریقہ سے کربھی لیا، تب بھی یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ برھان الدین المرعیناني رحمہ اللہ: ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفء وغير الكفء ولكن للولي الاعتراض في غير الكفء وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء لأنه كم من واقع لا يرفع ويروي رجوع محمد إلى قولهما. ولا يجوز للولي إجبار البكر البالغة على النكاح .(الھدایۃ:(196/1
قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃ رحمھم اللہ :لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا، فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها، فإن أجازته جاز وإن ردته بطل.(الفتاوی الھندیة :(287/1
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالٰی :ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال: إن الكفاءة في النكاح تكون في ست .....نسب وإسلام كذلك حرفةوحرية وديانة ،مال فقط.( ردالمحتارعلی الدر :(86/3
قال العلامۃ الکساني رحمہ اللہ:الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت، جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.( بدائع الصنائع :(247/2
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:(وله) أي للولي (إذا كان عصبة.....الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى.(الدرالمختارمع الرد:(56/3
جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27 جمادی الآخرۃ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


