03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قضا عمری کے احکام
86088نماز کا بیانقضاء نمازوں کا بیان

سوال

السلام علیکم اب تک میں 15 سال کی عمر میں پہنچ چکا ہوں۔ میں جب شروع شروع میں بالغ ہوا  تو مجھے ابتدائی دور جس کا میرا جو اندازہ ہے وہ چھ سات مہینے ہے، مجھے بلوغت کے احکام معلوم ہی نہ تھے۔ ایک دن جا کر معلوم ہوئے۔ تو اس کی قضا نمازوں کی تعداد احتیاطاً 1 سال لگا لی کیونکہ میرااندازہ صرف اپنے وقت گزرنے کے ایک احساس کی بنیاد پر تھا۔ 13 سال کی عمر میں مجھے احکام معلوم ہوئے اور اس وقت مجھے یہ بھی نہیں یاد کہ سال کا کون سا مہینہ تھا۔ تب سے لے کر میری 15 ویں سالگرہ تک مجھے ایک اور مسئلہ معلوم ہو گیا۔ مجھے پیشاب کے قطرے نکلنے کا مسئلہ تھا، جسے دو سالوں سے میں بس یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ تو ایک احساس یا وسوسہ ہے، کیونکہ قطرے موٹے پاجامے میں بظاہر نظر نہ آتے تھے۔ مگر تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ توسچ میں قطرے تھے۔ ہر بار بیت الخلا سے ہونے کے بعد ایک آدھ گھنٹا سردیوں میں اور آدھ گھنٹا گرمیوں میں نکلتے رہتے ہیں۔ اب مجھے نہ تو یہ معلوم ہے کی یہ کب شروع ہوئے، غالبا 13 سال ہی کے وسط یا آخر میں۔ نہ یہ معلوم کی میں کتنی بار بیت الخلامیں جاتا تھا۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ کپڑے پر انگریزی روپے کے پھیلاؤ کے برابر لگی بھی یا نہیں۔ کون کون سی نمازیں رہی یعنی ان سے پہلے بیت الخلا گیا ۔ تو احتیاط ڈھائی سال کی سارا کا سارا ملا کرجس میں بلوغت والا بھی شامل ہے نمازیں لگا لیں۔ اب میں نے اپنے استاذ محترم سے ویسے ہی قضائے عمری کا معلوم کیا  کہ اگر اضافی تھوڑی ہو جائیں تو کیا وہ ضائع ہوں گی یا پھر نفل قبول ہوں گی۔ وہ کہتے کہ نفل قبول ہوں گی اور عصر اور فجر کے وقت قضا ادا کرنا اور 3 رکعات والی نمازیں لوٹانے میں بھی اللہ سے امید رکھیں کہ نفل قبول ہو جائیں گے۔ اب اگر یہ بات صحیح ہے تو میں احتیاطا 3 سال کی لگا لیتا ہوں۔ آپ بس اتنا بتا دیں کہ اب میرے لیے کیا حکم بنتا ہے۔کیا میں اس طرح سے کروں کہ میرے ذمے جو پہلی فجر وغیرہ قضا ہے وہ لوٹاؤں یا پھر سال کا تعین بھی ضروری ہے۔ایک دار الافتاء والوں نے فتوی دیا تھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ احتیاطا ًقضا کی جانے والی نفل قبول ہوں تو پھر چار رکعات میں چاروں میں سورت ملائیں اور تین رکعات والی کو چار چار رکعات پڑھیں اور تیسری میں تشہد کے بقدر قعدہ بھی کریں۔ مجھے ذرا یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ تین رکعات والی کو چار رکعات کیسے پڑھیں اور تیسری میں بقدر تشہد قعدہ کرنے کا کیا مطلب ہے۔اگر معلوم ہو جاتا ہے کہ اس طریقے سے اگر میرے ذمے وہ نمازیں نہ ہوئیں تو نفل قبول ہو جائیں گی تو کافی زیادہ میرے لیے آسانی ہو جائے گی۔میرے استاذ محترم نے تو تین رکعات والی خو چار پڑھنے والے طریقے کو غلط قرار دیا۔ براہ کرم رہنمائی فرمادیں!

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. جہاں صرف شبہ ہے واضح دلیل موجود نہیں ان صورتوں میں نماز کا دہراناآپ پر لازم نہیں۔یقینی قضاء نمازیں طے کرلےاور احتیاطاًً کچھ اضافی نمازیں بھی قضاءکر یں یہ کافی ہوگا۔جس دارلافتاء  نے جواب دیا ہے اس کی تفصیل بھی اسی دارالافتاء سے پوچھی جائے۔
  2.  آپ جب قضاء نماز پڑھناچاہیں تو اس میں سال کاتعین ضروری نہیں بلکہ اس طرح نیت کریں میرے ذمےجوقضا نمازیں ہیں ان میں  پہلی فجریا پہلی مغرب کی قضاکرتاہوں ۔
حوالہ جات

        قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين، ولو تيقنهما وشك في السابق فهو متطهر.(رد المحتار :1/ 150)

         قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :ومن أيقن بالطهارة وشك في الحدث فهو على الطهارة، ومن أيقن بالحدث وشك في الطهارة فهو على الحدث، لأن اليقين لا يبطل بالشك ).بدائع: 1/ 33)

     قال العلامۃ الطحطاوی رحمہ اللہ :من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء ومن قضى صلاة عمره مع أنه لم يفته شيء منها احتياطا قيل يكره وقيل لا لأن كثيرا من السلف قد فعل ذلك لكن لا يقضي في وقت تكره فيه النافلة.(حاشية الطحطاوي ص:447)

    قال العلامۃ الحصکفی رحمہ ا للہ: كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.

   قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت.

 محمدادریس  

 دار الافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی      

/28جمادی الثانیۃ 1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن غلام محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب