| 86096 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اپنے ماں باپ کےگھر تھی اور خاوند نے مجھے فون کر کے دو طلاقیں دیں دیےاور پھر ایک مہینہ گزر گیا۔ اس دوران وہ میرے پاس نہیں آیا ،اس کے بعد پھر جب ایک مہینہ پورا ہو گیا تو اس نے مجھے کہا کہ پہلے دو طلاقیں ہو چکی تھیں چل اب تجھے تیسری بھی ہو گئی تو آپ مجھے بتائیں کہ اب میرا اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟میری طلاق مکمل ہو چکی ہے یانہیں ہوئی ؟اور تیسرے طلاق کےبعداس صورت حال کو تقریبا چار پانچ مہینے گزر چکے ہیں تو کیا میں شرعًا دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں اور میری عدت کے بارے میں بھی بتا دیں! برائے مہربانی وضاحت فرمائیں!
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مذکورہ میں اس عورت پرتین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اورپہلی دوطلاقوں کےبعدسےاگرتین حیض مکمل ہوگئےہیں،تواس عورت کی عدت ختم ہوگئی ہے۔اگرپورےنہیں ہوئے توتین حیض پورےہونےکےبعد عدت ختم ہوجائےگی،اس کےبعدآپ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی: وَٱلۡمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٖ.[البقرة: 228]
وقال عزوجل : ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ …..فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗﵞ. [البقرة: 229]
قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ :وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}. (الهداية: 2/ 257)
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :ثم إذا وقع عليها ثلاث تطليقات في ثلاثة أطهار فقد مضى من عدتها حيضتان إن كانت حرة لأن العدة بالحيض عندنا، وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها. ) بدائع الصنائع: 3/ 89)
وقال أیضا رحمہ اللہ :فأما عدة الأقراء فإن كانت المرأة حرة فعدتها ثلاثة قروء، لقوله تعالى {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} .(بدائع الصنائع:ج : 3 3 9)
محمدادریس
دار الافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
28 /جمادی الثانیۃ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن غلام محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


