| 86153 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میں یوٹیوب پر ایک ر یل دیکھ رہا تھا، اس میں ایک آدمی (جو غالباً ہندو ہوگا) نے مزاح میں کہا کہ "میں یہ سنسار کا تیاگ کرتا ہوں اور تمہارا بھی، اور ہمالیہ جا کے رہتا ہوں۔" تو یہ "تیاغ" لفظ مجھے تھوڑا سا مزاحیہ لگا، تو میں بھی اپنی بیوی سے مزاح میں کہنے لگا کہ "میں نے بھی اس سنسار کا تیاگ کر دیا اور تمہیں بھی تیاگ دیا" ۔یہ الفاظ میں نے اس کا صحیح مطلب بغیرسوچے سمجھے مزاح میں کہہ دیے ۔ میں نے سمجھا کہ "تیاغ" کا مطلب کوئی قربانی یا شاید چھوڑنا ہوتا ہے، اس جملے سے یہی اندازہ لگا لیا۔ لیکن ذہن میں یہ نہیں تھا کہ شاید اس لفظ سے طلاق بھی ہو سکتی ہے۔ یہ لفظ ہم پاکستان میں نہیں استعمال کرتے، شاید یہ ہندی کا لفظ ہے۔ بعد میں میں نے "تیاغ" کا مطلب گوگل کیا تو پتہ چلا کہ تیاغ کا مطلب "چھوڑ دینا" یا "ترک کرنا" ہوتا ہے۔ اب مجھے فکر ہو رہی ہے کہ کہیں اس سے طلاق تو نہیں ہو گئی؟ ہمارے ہاں تو کوئی بھی یہ لفظ طلاق کے لیے نہیں بولتا۔ انجانے میں "تیاغ" کہنے سے کیا طلاق ہو گئی ہے؟ اگر مجھے یہ پتا ہوتا کہ اس لفظ سے طلاق ہو جاتی ہے تو میں کبھی نہ کہتا۔ ہاں غلطی یہ ہے کہ مجھے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ ہماری ابھی نئی شادی ہوئی ہے اور میں نے بس اس مزاحیہ کلپ کی وجہ سے مزاح میں یہ سب کہہ دیا ۔ میں جانتا ہوں کہ یہ میری کم عقلی کا نتیجہ ہے، لیکن اب مجھے بہت خوف آ رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس لفظ کا معنیٰ و مطلب دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہ لفظ ترک، علیحدگی، آزادی، سخاوت، ترک دنیا، دنیا سے بے تعلقی، ایثار، قربانی، درگزر، قطع تعلق، دست برداری اور چھوڑدینا کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ طلاق کے معنیٰ میں صراحتاً استعمال نہیں ہوتا۔لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ اس لفظ سے طلاق کی نیت تھی اور نہ ہی کسی قسم کا مذاکرہ طلاق چل رہا تھا ،اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی،نکاح بدستور قائم ہے۔تاہم اس بات کا خوب اہتمام کرنا چاہیے کہ ایسے الفاظ کو مزاح میں بھی استعمال نہ کیا جائے جن کا مفہوم معلوم نہ ہو،خاص طور پر جب وہ کسی غیر مسلم کی زبان سےسنے ہوں۔
حوالہ جات
(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير)اخرجي اذهبي اعزبي قومي... ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين. (الفتاوى العالمكيرية:1/ 375)
باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب... ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله.(الدر المختار مع رد المحتار:3/ 301)
ولا خلاف أنه لا يقع الطلاق بشيء من ألفاظ الكناية إلا بالنية فإن كان قد نوى الطلاق يقع فيما بينه وبين الله تعالى... وهل يدين في القضاء؟ ...فإن كانت حالة الرضا وابتدأ الزوج بالطلاق يدين في القضاء في جميع الألفاظ لما ذكرنا أن كل واحد من الألفاظ يحتمل الطلاق وغيره، والحال لا يدل على أحدهما فيسأل عن نيته ويصدق في ذلك قضاء. (بدائع الصنائع :3/ 106)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
3/رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


