| 86259 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ بندہ کے والدصاحب ایک غریب آدمی تھے، ان کا کچھ سرمایہ نہیں تھا ،جو مزدوری کرتے وہی بچے کھاتے تھے اور بندہ والدین کا بڑا بیٹا ہے اور غربت کی وجہ سے، بندہ نے سولہ سال کی عمر میں دسویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ دی اور 1999 سے 2010 تک والد صاحب کے ساتھ مل کر گھر کے تمام اخراجات اور بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے۔ ایک بھائی نےMsc،جبکہ دوسرےنے افتاء تک بنوری ٹاؤن سے تعلیم حاصل کی ۔اسی طرح بندہ نے بہنوں کی شادی اخراجات برداشت کئے ۔ بندہ نے کئی دوستوں سے قرض رقم لے کر گھر کے لئے پلاٹ خریدا اور بطور تعظیم باپ کے نام پر اسٹامپ لکھ دیا اور نیچے بندہ کے دستخط موجود ہیں اور پھر بندہ نے گھر کے اخراجات اور اپنے ذاتی کاروبار سے تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر پانچ سال میں مکان تعمیر کیا۔ بھائیوں نے بے روزگاری کی بناء پر گھر کی تعمیر میں کوئی تعاون نہیں کیا، البتہ ایک بھائی(Msc والے )نے آخر میں اپنی شادی کے لئے گھر میں چار کمروں کے دروازوں اور کھڑکیوں اور کچن اور غسل خانوں وغیرہ کا پلستر اور دو کمروں میں فرش کیا اور ایک قرضدار کو 40000 روپے دیے ۔ ایک بھائی 2018 سے جبکہ دوسرا بھائی 2020 سے الگ رہ رہا ہے۔ دو مہینے پہلے اکتوبر 2024 میں والد صاحب بیمار ہو گئے اور ان کے ہسپتال کے تمام اخراجات بندہ نے اور MSc والے بھائی نے ادا کیے ۔والد صاحب کی وفات کے دو مہینے بعد ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات کے حوالے سے بنوری والے بھائی سے مشورہ کیا گیا۔ اس نے پیغام دیا کہ جب تک گھر میں اپنا تیسرا حصہ نہیں ملتا، وہ کچھ قبول نہیں کرے گا، کیونکہ یہ گھر والد کے نام پر ہے، جبکہ یہ پلاٹ میں نے والد صاحب کو ہبہ نہیں کیا تھا، بلکہ بطور تعظیم اسٹامپ لکھا اور بھائیوں اور والدین کو رہنے کی جگہ دی تھی۔ لیکن اب دونوں بھائیوں کا یہی مطالبہ ہے کہ چونکہ ہم تین بھائی ہیں تو تین پر تقسیم کیا جائے اور ہر بھائی کو تیسرا حصہ ملنا چاہیے ۔ نیو ٹاؤن والے بھائی کا مطالبہ ہے چونکہ یہ اسٹامپ میرے والد صاحب کے نام پر ہے، اس لیے مجھے مکان میں تیسرا حصہ دیا جائے جبکہ دوسرا بھائی کہتا ہے کہ گھر کی تعمیر و مرمت کی وجہ سے مجھے گھر میں تیسرا حصہ دیا جائے۔ کیا یہ دونوں شراکت یا بطور میراث حصہ لے سکتے ہیں؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا MSc والے بھائی نے اپنی شادی کے لیے مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے کمرے وغیرہ بنوا کر دو تو میں نے کہا کہ تم خود بنوا لو میرے پاس گنجائش نہیں اور مجھ پر قرض بھی ہے، تو اس پر بھائی نے کہا کہ 40000 قرض میں ادا کر دوں گا اورپھر یہ 40000 بھی ادا کیا اور اپنے خرچے سے کمروں اور غسل خانوں پر فرش پلستر وغیرہ کروایا۔ بنوری ٹاؤن والے بھائی نے والد صاحب کی زندگی میں ہی گھر کا مطالبہ شروع کر دیا تھا اور والد صاحب کو بھلا پھسلا کر اس بات پر راضی کیا تھا کہ یہ گھر ہم سب بھائیوں نے مل کر بنایا ہے،جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اس پر خاندان کے بڑے لوگوں کو بھی بلایا گیا ۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ آپ سب پر تقسیم ہو گا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ آپ کے والد بوڑھے ہیں اور وہ ناراض نہ ہوں۔ سائل کا کہنا ہے کہ میں نے والد صاحب کو کہا تھا کہ مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں کیونکہ میرے ساتھ ناانصافی ہے۔ والد صاحب نے کہا کہ میری زندگی میں ان سب کو رہنے دو اور جب میں مر جاؤں تو شریعت کے مطابق جو فیصلہ ہو وہ کر لینا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کے مطابق، کسی چیز کو محض کسی کے نام کرنے سے وہ فرد اس چیز کا مالک نہیں بنتا، جب تک باقاعدہ ہبہ کے الفاظ ادا کرنے کے بعد وہ چیز مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ اس کو نہ دی جائے۔زمین یا پلاٹ کی صورت میں تخلیہ ضروری ہے ۔ صورت مسئولہ میں اگر آپ کا بیان واقع کے مطابق ہے توچونکہ آپ نے اپنی رقم سے پلاٹ خریدا اور بطور تعظیم والد صاحب کے نام کیا تھا ،انہیں ہبہ نہیں کیا تھا،نہ مالکانہ قبضہ دیا تھاتو صرف نام کرنے سے وہ والد صاحب کی ملکیت میں نہیں آئے گا،لہذا یہ پلاٹ آپ ہی کی ملکیت میں ہےاور والد صاحب کے ترکہ میں شامل نہیں ہو گا،اس لیے دیگر بھائیوں کا اس پلاٹ میں حصہ میراث طلب کرنا جائز نہیں۔
اب آپ نے اپنے خرچے سے اس پر گھر تعمیر کیا ہے تو یہ گھر آپ ہی کی ملکیت میں ہے۔بھائی نے اپنی شادی کے موقع پر جو پیسہ گھر کی تعمیر میں خرچ کیا ہے ، شرعا وہ واپس لینے کا حق دار ہے۔ اسی طرح 40000 کا جو قرضہ اس بھائی نے آپ کی طرف سے ادا کیا ہے ، اگر اس کو واپس لینے کی نیت سے ادا کیا ہے تو شرعا وہ اس کی واپسی کے مطالبے کا حق رکھتا ہے۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 91):
وأما شرط جوازها فالقبض حتى لا يثبت الملك للموهوب له عندنا قبل القبض
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص561):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا،
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 688):
شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)
درر الحكام(ج 1 ص 216):
المادة ٢٦٣: تسليم المبيع يحصل بالتخلية وهو ان يأذن البائع للمشتري بقبض المبيع مع عدم وجود مانع من تسليم المشتري اياه
فقه البیوع (1/227-226):
و ما ذکر نا من حکم التلجئة یقاربه ما یسمی فی القوانین الوضعیة "عقودا صوریة" (Ostensible Contracts)و تسمی فی بلاد نا Benami Contracts ، و هی أن تشتری أرض باسم غیر المشتری الحقیقی، و تسجل الأرض باسمه فی الجهات الرسمیة، و ذلك لأغراض ضریبیة أو لأغراض أخری، و لکن المشتری الحقیقی هو الذی دفع ثمنه. و عدة من القوانین لوضعیة تعترف بکونها صوریة، و بأن العبرة فیما بین المتعاقدین بالعقد الحقیقی المستتر… وعلی هذا أساس أفتی علماء شبه القارة الهندیة بأن مجرد تسجیل الأرض باسم أحد لا یستلزم أن یکون هو مالکا لها، فلو اشتراها أحد باسم رجل آخر لم یدفع الثمن، و إنما دفع الثمن من قبل الأول، فمجرد هذا التسجیل لایعنی أنه وهب له الأرض.
توثيق الديون (ص 132):
إذا أُنشئت الكفالة بقبول الأصيل (المكفول عنه)، وأدى الكفيل ما وجب عليه بالكفالة، فله الرّجوع به على الأصيل، بمعنى أنه يُطالب الأصيل لأنه دفع المال عنه. قال الكاساني رحمه الله تعالى : والثاني (أي والحكم الثانى للكفالة): ثبوت ولاية مطالبة الكفيل الأصيل إذا كانت الكفالة بأمره في الأنواع كلها
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
06 /رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


