| 86187 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کچھ دن پہلے میں نے اپنی ساس کو فون لگایا، بات چیت ہوئی اور بڑھ گئی تو میں نے اپنی ساس سے کہا اگر تو اپنی بیٹی (جو کہ میری بیوی ہے) سے بات کرے گی تو اس کو تینوں طلاق، پھر میں نے اپنے بیوی کو فون لگایا اور اس سے کہا میری اجازت کے بغیر اپنے ماں سے بات چیت کرے گی تو تینوں طلاق ہو جائے گا۔ میری شرط کے بعد اس نے اپنی امی سے کسی طرح کی بات چیت نہیں کی۔ پھر میں نے خود ہی اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنی امی کو فون لگا کر بات چیت کر لے پھر اس نے اپنی امی سے بات کر لی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ میری بیوی نے میری اجازت سے ہی اپنی امی سے فون کر کے بات چیت کر لی ،جبکہ میں نے اپنی ساس کو بھی اپنی بیٹی سے بات کرنے منع کر رکھا تھا ۔بتایا جائے کہ کیا مذکورہ واقعہ سے میری بیوی پر طلاق واقع ہو گئی؟ قران و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ نے طلاق کو اپنی ساس کا آپ کی بیوی کےساتھ بات چیت کر نے پر معلق کیاتھااور اس میں یہ الفاظ نہیں تھے کہ’’ میری اجازت کے بغیربات نہیں کرے گی‘‘۔ لہذا جیسے ہی آپ کی ساس نے آپ کی بیوی سے بات کی تو آپ کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔اب نہ رجوع ہو سکتا ہےاور نہ نکاح کی تجدیدہو سکتی ہے۔ البتہ اگر بیوی عدت گزارنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرے اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد طلاق ہو جائے یا شوہر فوت ہو جائے ، توعدت گزارنے کے بعد آپ اس سے نکاح کر سکتےہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما ،فإنه ينحل بعد الثلاث).( الدر المختار : 3/ 352)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت. (الدر المختار: 3/ 355)
والفتاوى العالمكيرية :وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا. ( الفتاوى الهندية: 1/ 420)
قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ:إذا وجد الشرط انحلت وانتهت اليمين ؛لأنها غير مقتضية للعموم...
وزوال الملك بعد اليمين لا يبطلها ؛ لأنه لم يوجد الشرط فبقي والجزاء باق لبقاء محله فبقي اليمين " ثم إن وجد الشرط في ملكه ،انحلت اليمين ووقع الطلاق ؛ لأنه وجد الشرط والمحل قابل للجزاء، فينزل الجزاء ولا تبقى اليمين. ( الهداية : 1/ 244)
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ:و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ أوثنتین فی الأمۃ ،لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ،ویدخل بھا،ثم یطلقھا أو یموت عنھا.( التاتارخانیۃ:3603/)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی
5/رجب المرجب،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


