| 86321 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں کالج کا 22سالہ نو جوان طالب علم ہوں۔ ہمارے کلاس میں میرے علاوہ سب لڑکیاں ہیں ۔ بوقت ضرورت کبھی مجھے اور کبھی انہیں (کیونکہ اپنی کلاس میں الحمد للہ اب تک میری اچھی پو زیشن رہی ہے )کچھ نہ کچھ باتیں کرنی پڑ جاتی ہیں، لیکن یہ چیزیں شاید مجھے کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔ برائے مہربانی مجھے چند ایسی مستند کتا بوں کے نام بتا دیں جن میں نا محرم کے ساتھ تعلق رکھنے کے حوالہ سے عبرت ناک واقعات ، نصیحتیں اور ان سب سے بچنے کی ترکیبیں بتائی گئی ہوں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نامحرم سے تعلقات سے بچنے کےلیے پہلی اور بنیادی شرط یہ ہےکہ ان کے ساتھ اختلاط ہی نہ کی جائے۔لہذا جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ تعلیم کا نظم موجود ہو، وہاں مخلوط تعلیمی اداروں میں جانا درست نہیں،لیکن جب تک ایسا نظم میسر نہ ہو تو ضروری تعلیم حاصل کرنے کے لیے مجبوراً مخلوط تعلیمی ادارےمیں جانے کی گنجائش ہوگی،لیکن اس دوران نظر کی حفاظت ، بلاضرورت میل جول اورنامحرم کے ساتھ غیر ضروری اور بےتکلف گفتگو سے پرہیز کرناضروری ہے۔ناگزیر تعلیمی ضرورت سے بقدرضرورت بات کی جا سکتی ہے۔
جہاں تک نامحرم سے تعلق سےبچنےکے لیےوعظ و نصائح کے کتب کی بات ہےتوآپ مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں۔
مفتی رشیداحمد صاحب نوراللہ مرقدہ کی کتاب"حفاظتِ نظر"۔
مولاناشاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ کی کتاب"بدنظری کی تباہ کاریاں "۔
اللہ تعالٰی نے آپ کو متوجہ کیاہےتو قوی امید ہےکہ آپ اگر ہمت فرمائیں گے توان شاء اللہ آپ اپنی نظروں کی حفاظت کرپائیں گے۔اللہ تعالٰی توفیق سے نوازیں،امین
حوالہ جات
قال اللہ سبحانہ و تعالٰی في کلامہ المجید: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (31(.(النور: 30،(31
جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
11 رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


