| 86159 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
مجھے المیزان فنڈز کی شریعت کے مطابق ہونے کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔ میں نے المیزان انویسٹمنٹ (Al-Meezan Investment )میں سرمایہ کاری کی ہے۔ جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا سود کا ریٹ 21فیصد تھا، تو المیزان تقریباً اتنا ہی منافع دے رہا تھا۔ لیکن جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سود کا ریٹ کم کرکے تقریباً 13.5فیصد کر دیا، تو المیزان نے بھی اپنے منافع کی شرح کم کر دی۔ اس سے میرے ذہن میں تشویش پیدا ہوتی ہے کہ اگر المیزان فنڈز واقعی شریعت کے مطابق ہیں، تو ان کے منافع کی شرح سود کی شرح میں تبدیلی کے ساتھ کیوں تبدیل ہوتی ہے؟ ایسے حالات میں کیا ان فنڈز کو شریعت کے مطابق کہا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
المیزان انویسٹمنٹ (Al-Meezan Investment )مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں چل رہا ہے، اس لیے اس میں پیسےانویسٹ کرنا جائز ہے۔
تاہم اسلامی بینکس یا دیگر اسلامی مالیاتی ادارے جو شرح ِنفع کے تعین کے لیے شرح ِ سود کو معیار بناتے ہیں تو اس کےمتعلق تفصیل یہ ہےکہ موجودہ مالیاتی نظام (Financial System)میں شرح سود معیشت میں سرمائے کی قیمت، قرضوں کی لاگت، اورسرمایہ کاری کے رجحانات کا ایک عمومی پیمانہ (Benchmark) ہے۔ اسلامی بینکوں یا اسلامی مالیاتی اداروں کو ایسے مالیاتی نظام میں کام کرنا ہوتا ہے جہاں کنوینشل بینکوں یا کنوینشنل مالیاتی اداروں کا غلبہ ہے، اور سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے ایک قابل قبول معیار ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا اگریہ ادارے معاہدات میں تمام شرعی اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوں ، تو محض شرح سود کو نفع کے تعین کے لیے معیار کے طور پر استعمال کرنا عقد کو ناجائز نہیں بناتا۔
اس کو مثال سے سمجھ لیجئے کہ : فرض کریں کہ دو بھائی ہیں(زید اور خالد) ، ایک (زید)سودی قرضے دیتا ہے اور ہر سو روپے پر دس روپے سود وصول کرتا ہے، دوسرا بھائی(خالد) اپنی گارمنٹس کی دکان چلاتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنی اشیاء کو دس فیصد نفع پر فروخت کرے گا، تاکہ وہ بھائی کے سودی نفع کے برابر کمائے۔ تو خالد اگر اپنی تجارت کے شرعی اصولوں (جیسے خرید و فروخت کی شفافیت، مال کی ملکیت، اور معاہدے کی تمام شرائط) کو پورا کرتا ہے، تو اس کی تجارت کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح المیزان انویسٹمنٹ (Al Meezan Investment )اگر اپنے سرمایہ کاری کے معاہدات میں تمام شرعی اصولوں (مثلاً: عقد اجارہ یا مضاربہ کی شرائط، حقیقی اثاثوں کی بنیاد، اور شفافیت) کو پورا کرتاہے، تو محض شرح سود کو نفع کے تعین کے لیے معیار بنانا اس معاہدے کو ناجائز نہیں بناتا۔
لہٰذا المیزان انویسٹمنٹ میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً جائز ہے اور شرح سود میں تبدیلی سے منافع کی شرح کا بدلنا معاہدے کےجواز پر اثرانداز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(275/01):
﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ﴾ .
القرآن الکریم(29/04):
﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ-وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا ﴾.
Meezan Islamic Fund is an open-end Shariah-compliant equity scheme. The fund invests only in those listed companies that have been approved by our Shariah Advisor as Shariah-compliant.
https://www.almeezangroup.com/what-we-offer/mutual-funds/equity-funds/
حضرت خُبیب بن حضرت عیسٰی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03 /رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


