| 86194 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
سوال:میں نے اپنی بیوی کو آج سے دس سال پہلےمختلف اوقات میں تین طلاقیں دی تھیں۔دارالافتاء سے فتوی لینے کے بعد میں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی۔لیکن پھر عدت کے دوران ہی ہم ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور بوس و کنار بھی کیا۔طلاق کے تین ماہ بعد عورت نے اپنی رضامندی سےبغیر کسی شرط اور پیسے دیے ہوئےگواہوں کی موجودگی میں دوسرا نکاح کیا ، اس شخص نے حق مہر اداکیا اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے تین دن بعد عورت کے کہنے پر اس کو طلاق دے دی۔ عورت کی عدت کے دوران میں نے دوبارہ اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کیا ،لیکن باہر فارغ ہوا۔چار ماہ بعد میں نے اس کے ساتھ گواہوں کی موجوگی میں دوبارہ نکاح کیا ۔ ان دس سالوں میں ہمارے دو بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اب ہمارا رشتہ شرعاً میاں بیوی والا رشتہ ہے یا نہیں؟برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بیان کی گئی تفصیلات اگر درست ہیں تو آپ کا دوبارہ نکاح درست ہے اور اب آپ دونوں شرعاً میاں بیوی ہی ہیں۔البتہ آپ نے بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد عدت میں اور دوبارہ اپنی نکاح میں لانے سے پہلے اس کے ساتھ جو جسمانی تعلق قائم کیا تھا وہ نا جائز اور حرام تھا ،اس کی وجہ سے آپ دونوں پر دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔
حوالہ جات
وقال أصحاب الفتاوی الہندیۃ:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها، أو يموت عنها،كذا في الهداية.( الفتاوى الهندية:1/ 473)
وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله...وإنما تنتهي الحرمة وتحل للزوج الأول بشرائط منها النكاح، وهو أن تنكح زوجا غيره؛لقوله تعالى {حتى تنكح زوجا غيره}نفى الحل، وحد النفي إلى غاية التزوج بزوج آخر، والحكم الممدود إلى غاية لا ينتهي قبل وجود الغاية.( بدائع الصنائع :3/ 187)
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قولہ:(ولا بد من سترة بينهما في البائن)؛لئلا يختلي بالأجنبية، ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة...وقوله:(أو كان الزوج فاسقا)؛لأنه إنما اكتفي بالحائل؛لأن الزوج يعتقد الحرمة فلا يقدم على المحرم إلا أن يكون فاسقا...والأفضل أن يحال بينهما في البيتوتة بستر إلا أن يكون فاسقا فيحال بامرأة ثقة، وإن تعذر فلتخرج هي وخروجه أولى ، وفيه مخالفة لما مر، فإن السترة لا بد منها كما عبر المصنف تبعا للهداية، وهو الظاهر لحرمة الخلوة بالأجنبية.(رد المحتار:537/3)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
03/رجب المرجب6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


