| 85909 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
ہم جمعرات کے دن تبلیغ میں شب جمعہ کےلیےنکلتے ہیں تواپنی جامعہ سےکھاناساتھ لے کرجاتے ہیں۔ بعض اوقات وہاں کےمقامی لوگ ہمارے ساتھ کھانےمیں شریک ہوجاتے ہیں، کیاان لوگوں کےلیےہمارےساتھ جامعہ کا کھانا کھاناجائز ہےیانہیں؟ یاکبھی کبھارہم سے کھانا بچ جاتاہے، اس صورت میں یہ بچاہواکھاناکسی کودینا جائز ہے یاواپس جامعہ لائیں گے، جبکہ واپس لانےمیں خراب ہوجانےکاقوی اندیشہ ہوتاہے؟ اسی طرح بعض اوقات ہمارے دوسرے مدارس کےساتھی یاکوئی مہمان آجاتاہے، ہم ان کویہی کھانا کھلاتے ہیں، اس کا کیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مدرسےکاکھاناچونکہ چندےکی رقم سےتیارکیاجاتاہے، جوحیلہ تملیک کےبعدطلبہ کی ملکیت شمارہوتاہے، لہذاانتظامیہ کاجامعہ سےباہرلےجانےکی اجازت دینےکےبعد طلبہ جس کوبھی چاہیں کھلاسکتےہیں۔
حوالہ جات
قال العلامة الزيلعي رحمہ اللہ تعالی: هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى. (النهر الفائق: 1/ 411)
وقال العلامة الكاساني رحمہ اللہ تعالی: وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه وهو المصدق والملك للفقير يثبت من الله تعالى وصاحب المال نائب عن الله تعالى في التمليك والتسليم إلى الفقير. (بدائع الصنائع: 2/ 39)
وقال العلامة ملا خسرو رحمہ اللہ تعالی: ومن الأصول المقررة أن تبدل الملك قائم مقام تبدل الذات أخذا من قوله صلى الله عليه وسلم لبريرة هي لك صدقة ولنا هدية. (درر الحكام: 2/ 32)
راز محمد بن اخترمحمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
15جمادی الاخری 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


