| 86191 | پاکی کے مسائل | معذور کے احکام |
سوال
اگر کوئی شخص ہوا خارج ہونے کی وجہ سے معذور ہو اور وہ دو نماز کے وقت مثلا عصر اور مغرب میں مکمل وقت سویا رہا اور صرف عصر کے دوران تقریباً ۱۵ منٹ کے لیے جاگا جس دوران اس کی ہوا خارج نہیں ہوئی ،تو کیا پھر بھی وہ معذور کی فہرست میں ہی داخل رہےگا ؟کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سوتے وقت ایک مرتبہ بھی اس کی ہوا خارج نہ ہوئی ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کوئی شخص ایک مرتبہ شرعی طور پرمعذور ہوجائےتو اس کا عذر اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک کسی ایک نماز کےپورے وقت میں اسے وہ عذر بلکل پیش نہ آئے۔اگر نماز کےپورے وقت میں ایک بار بھی عذر پیش آتا ہے تو وہ معذور ہی رہے گا۔ صورت مسئولہ میں اس کو چونکہ پورا وقت نہیں ملا،بلکہ صرف 15 منٹ ملے ہیں، لہذا یہ شخص بدستورمعذور رہے گا ۔
حوالہ جات
قال العلامة ملا خسرو رحمه الله:قولہ:(صاحب العذر ابتداء من استوعب عذره تمام وقت صلاة ولو حكما) بأن لا يجد في وقت صلاة زمانا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث.(دررالأحکام شرح غررالأحکام :1/44)
قال العلامة الحصکفی رحمه الله:قولہ: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(الدرالمختار:1/305)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
5/رجب المرجب، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


