03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیداد کی شرعی تقسیم
86202میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص (زید) کا انتقال ہوگیا جن کے پاس ایک گھر اور دوکان وغیرہ ہے۔ اس وقت ان کے موجود ورثہ یہ ہیں: تین بیٹیاں تین  بیٹے ایک  بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے،اس کی اہلیہ اورایک بیٹا ایک بیٹی ہیں۔ (دونوں بچے بالغ ہیں) وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

ایک گھر زید نے اپنی اہلیہ کے نام کیا تھا، اب زید کے انتقال کے بعد یہ معلوم نہیں کہ ملکیت زید کی اہلیہ کی تھی یا زید کی؟ جس وقت زید کی اہلیہ کا انتقال ہوا اس وقت موجود ورثہ یہ تھےزید، 4 بیٹے، 3 بیٹیاں۔ اب زید کے انتقال کے بعد اس گھر کی تقسیم کیسے ہو جبکہ اس کی ملکیت میں  اختلاف ہے؟

سائل کی طرف سےیہ بات واضح ہوئی کہ بیٹے کا باپ کی زندگی میں انتقال ہوگیاتھا۔

زید نے جو گھر اپنی اہلیہ کے نام کیا تھا اس میں خود رہائش  اختیار کی ہوئی تھی  مکمل حوالہ نہیں کیاتھا اور اہلیہ کے انتقال کے بعد بھی اسی گھر میں رہتے رہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

باپ کی زندگی میں انتقال ہوجانے والے بیٹے کی  بیوی اور اولاد کا  دادا(زید) کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں تاہم اگر ورثہ اپنی مرضی سے ان کو اپنے حصے سےدینا چاہیں  تو دےسکتے ہیں۔ زید کا  صرف قبضہ دیے بغیر گھر اپنی اہلیہ کے نام پر منتقل کرنے سے یہ گھر زید کی اہلیہ کی ملکیت میں نہیں آیا ،لہذا س گھر کا مالک زید ہی تھا۔

زید نے بوقت انتقال  اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال، جائیداد، سونا ،چاندی، نقدی اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا جو ساز وسامان چھوڑا ہے اور ان کا وہ قرض جوکسی کے ذمہ واجب ہو، یہ سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات  نکالنے، ان کے ذمہ واجب الاداء  قرض  ادا کرنے  اور کل ترکہ  کے ایک تہائی کی حد تک  ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے   وہ ورثہ کے درمیان  درج ذیل طریقہ سے تقسیم ہوگا:

مرحوم کے تینوں  بیٹوں میں سے ہر ایک کو22.222%،اور مرحوم کی تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو11.111%ملے گا۔

آسانی کے لیے درج ذیل نقشہ ملاحظہ کیجئے:

نمبر شمار

ورثہ

9حصے

100فیصد

1

پہلا بیٹا

2حصے

22.222% فیصد

2

 دوسرا بیٹا

2حصے

22.222% فیصد

3

تیسرا بیٹا

2حصے

22.222% فیصد

4

پہلی بیٹی

1حصہ

11.111% فیصد

5

دوسری بیٹی

1حصہ

11.111% فیصد

6

تیسری بیٹی

1حصہ

11.111% فیصد

حوالہ جات

قال الله تعالى: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ }[النساء:11]

قال الله تعالى :{ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ }[النساء:12]

لا تجوز الهبة إلا محوزة مقسومة مقبوضة يستوي فيها الأجنبي والولد إذا كان بالغاً، وقوله لا يجوز: لا يتم الحكم، فالجواز ثابت قبل القبض باتفاق الصحابة، والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة .

)البحر الرائق:(238/6

انس رشید ولد ہارون رشید

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

06/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

انس رشید ولد ہارون رشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب