03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جاز کیش کی صورت میں ادھار ادائیگی کا حکم
86221اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

میں جاز کیش کا کاروبار کرتا ہوں، یعنی کوئی مجھ سے ایک لاکھ روپے کی ٹرانزکشن کروائے تو میں ایک ہزار روپے فیس لیتا ہوں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہےکہ گاہک کہتا  ہے میرے ایک لاکھ روپے ٹرانسفر کر دو ، لیکن پیسے ابھی میرے پاس نہیں ہیں،میں کل آپ کو دوں گا  ۔ میں تب بھی ایک لاکھ ٹرانسفر کرنے پربطورِاجرت ایک ہزار ہی لیتا ہوں ،اس کے ادھار پر اضافی پیسے نہیں لیتا۔ کیا یہ معاملہ جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عام طور پر مارکیٹ میں جاز کیش  کاروبار  کرنے کے لیےکمپنی    دو قسم کے  اکاؤنٹس  کھولتی ہے  ۔ دونوں اکاؤنٹس کے ذریعہ کمیشن لینے میں  درجہ ذیل فرق ہے:

الف: ریٹیلر اکاؤنٹ(Retailer Account): ریٹیلر اکاؤنٹ میں کمپنی اور دکاندار کے درمیان شرعی اعتبار سے اجارة الاشخاص (اس میں دکاندار کمپنی کا ملازم اور کمیشن ایجنٹ ہوتا ہے) کا معاملہ منعقد ہوتا ہے اور کمپنی دکاندار کو اپنی کسی بھی قسم کی سروس (خدمت) فراہم کرنے پر ایک مخصوص مقدار میں کمیشن دیتی ہے اور کسٹمر سے اضافی رقم لینے کومنع کرتی ہے اور شرعی اعتبار سے اجارہ کے معاملہ میں طے شدہ جائز شرائط کی رعایت رکھنا فریقین کےذمہ لازم ہوتا ہے، لہذا ایسے میں کمپنی کے کمیشن ایجنٹ ہونے کی حیثیت سے دکاندار کا رقم ٹرانسفر(منتقل)کرنے پر کسٹمر سے اضافی رقم لینا جائز نہیں۔

ب: پرسنل اکاؤنٹ(Personal Account): پرسنل اکاؤنٹ کھلوانے سے متعلق کمپنی  کی ویب سائٹ پر لکھے گئے اصول وضوابط کے مطالعہ اور بعض دکانداروں کے بتانے پر معلوم ہوا کہ اس اکاؤنٹ میں دکاندار کمپنی کا کمیشن ایجنٹ نہیں ہوتا، اسی لیے کمپنی پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ رقم ٹرانسفر کرنے پراس کو کوئی کمیشن نہیں دیتی،البتہ کمپنی   اپنا سسٹم استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے، نیز پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ کسی دوسرے شخص کو خدمات فراہم کرنےسے  منع بھی  نہیں کرتی، بلکہ پرسنل اکاؤنٹ کھلوانے والا شخص (Account Holder) اپنی طرف سے  کسی بھی شخص کو خدمات فراہم کرنے میں خود مختارہوتا ہے، لہذا جب دکاندار اپنے پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ کسٹمر کی رقم ٹرانسفر کرتا ہےتو  دکاندار اور کسٹمر کے درمیان اجارة الاشخاص کا معاملہ منعقد ہوتا ہے، جس میں دکاندار کسٹمر کا اجیر(ملازم) بن کر اس کو اپنی خدمات فراہم کرتا ہے، اس لیے دکاندارکااپنے پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ  رقم ٹرانسفرکرنےپر اپنی خدمت کے عوض کسٹمر سے بطورِ اجرت مناسب مقدار میں اضافی رقم لینا  جائز ہے، بشرطیکہ کسٹمر کو اس بات کا علم ہو کہ یہ اضافی رقم دکاندار کی اپنی اجرت ہے۔(ماخوذ از تبویب: 78402)

لہذا  اگر آپ  ریٹیلر اکاؤنٹ(Retailer Account):  کے ذریعہ لوگوں کے رقوم کو ٹرانسفر کرتے ہیں تو آپ کے لیے ان سے کسی قسم کی اضافی فیس وصول کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔ جبکہ پرسنل اکاؤنٹ(Personal Account): میں آپ کسٹمرسے  مناسب فیس وصول کرسکتے ہیں۔ باقی اگر کوئی کسٹمر ادھار کر کے ٹرانزکشن کروائے تو مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں    ادھا کی وجہ سے اضافی  رقم لینا  آپ کے لیےجائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 560):

«‌وأما ‌الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.»

 «حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 560):

«(قوله: ‌فأجرته ‌على ‌البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة' شرح الوهبانية' وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.»

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

فقہ البیوع2/750:

أن دائرة البرید نتقاضی عمولة من المرسل علی إجراء ہذہ العملیة فالمدفوع إلی البرید أکثر مما یدفعہ البرید إلی المرسل إلیہ فکان فی معنی الربا ولہذالسبب أفتی بعض الفقہاء فی الماضی القریب بعدم جواز إرسال النقود بہذالطریق ولکن أفتی کثیر من العلماء المعاصرین بجوازہاعلی أساس أن العمولة التی یتقاضاہاالبرید عمولة مقابل الأعمال الإداریةمن دفع الاستمارة وتسجیل المبالغ وإرسال الاستمارة أوالبرقیة وغیرہاإلی مکتب البرید فی ید المرسل إلیہ وعلی ہذ الأساس جوز الإمام أشرف علی التہانوی رحمہ اللہ-إرسال المبالغ عن طریق الحوالة البریدیة".

 زاہد خان

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچ

      6/رجب/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب