| 86281 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک قریبی رشتہ دار کے والد محترم کا انتقال ہوگیا ہے۔ان کے وارثوں میں ان کی ایک بیوہ اور دو بیٹے ہیں ۔براہ کرم ان کی وراثت کی تقسیم کا طریقہ بتادیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑ اہے،وہ سب ان کا ترکہ ہے اور ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیزوتکفین کی جائے گی ۔اس کے بعد مرحوم کے ذمہ اگر کسی کا قرض ہو تو وہ اداکیاجائےگا۔اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں جائز وصیت کی ہوتواسے اس کے ترکہ کے ایک تہائی سے اداکیا جائےگا۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے وہ موجود ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔
کل ترکہ کے 16 حصےکر لیے جائیں اس میں سے دو حصے بیوی کو باقی سات سات حصے ہر ایک بیٹے کو دیے جائیں ۔
فیصدی لحاظ سے مرحوم کی بیوی کو 12. 5%اور ہربیٹے کو43.75% حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
قال اللہ تبارك وتعالی:ﵟوَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗﵞ [النساء: 12].
قال العلامۃالسرخسی رحمہ اللہ تعالی : فأقرب العصبات الابن، ثم ابن الابن، وإن سفل، ثم الأب، ثم الجد أب الأب، وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب. ( المبسوط للسرخسي:29/174(
قال العلامۃ علاءالدین الحصکفي رحمہ اللہ تعالی :ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف :جزء الميت ،ثم أصله ثم جزء أبيه، ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب ،فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل، ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) ). الدرالمختار:6/ 774(
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
10رجب المرجب،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


